30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
الوجہ فتشکر،ثم لاوجہ یظھر لتقییدہ بالکبیر بعد فرض الصورۃ تحت القدم واﷲ تعالٰی اعلم وتبعہ البحر فی ھذا البحث کلہ غیرانہ قال اطلق الکراھۃ فی الاصل فیما اذا کان علی البساط المصلی علیہ صورۃ لان الذی یصلی علیہ معظم فوضع الصورۃ فیہ تعظیم لھا بخلاف البساط الذی لیس بمصلی [1]اھ فحمل البساط علی السجادۃ کما حملنا ثم تبع الحلیۃ فقال،وتقدم عن الجامع الصغیر التقیید بموضع السجود فینبغی ان یحمل اطلاق الاصل علیہ وانھا اذا کانت تحت قدمیہ لایکرہ اتفاقا[2]اھ۔اقول:قولہ وانھا معطوف علی قولہ ان یحمل،داخل تحت ینبغی فھو بحث منہ بناءً علی ماحمل علیہ کلام الاصل وقد علمت مافیہ بل تکرہ فی المصلی مطلقا |
اس وجہ کافائدہ بخشا لہٰذا شکریہ ادا کیجئے،پھر لفظ"بساط" کو لفظ "کبیر"سے موصوف اور مقیدکرنے کی کوئی ظاہروجہ موجود نہیں جبکہ یہ فرض کرلیاکہ تصویر(نمازی کے)زیرقدم ہے واﷲ تعالٰی اعلم،بحررائق نے اس پوری بحث میں ا س کی متابعت کی ہے مگریہ کہ فرمایا اصل میں کراہت کومطلق رکھا اس حالت میں جبکہ بچھی ہوئی جانماز پرتصویر ہوکیونکہ جس فرش پرنماز پڑھی جائے وہ قابل تعظیم ہے،پھر اس میں کسی کا رکھنا اس تصویر کی بلاشبہہ تعظیم ہے لیکن وہ فرش ہوجانماز نہ ہواھ (یہاں)موصوف نے فرش کو جانمازپرحمل کیاہے جیسا کہ ہم نے حمل کیاہے،پھرحلیہ کے اتباع میں فرمایا کہ جامع صغیر کاحوالہ پہلے آچکاکہ اس نے اسے محل سجدہ سے مقیدکیاہے۔لہٰذا مناسب یہ ہے کہ اصل کے اطلاق کو اس پرحمل کیاجائے،او رجب تصویر دونوں پاؤں کے نیچے ہوتوباتفاق کراہت نہیں اھ۔اقول:(میں کہتاہوں)اس کایہ کہناکہ"وانہا"اس کے قول"ان یحمل"پرمعطوف ہے اور "ینبغی"کے ذیل میں داخل ہے او ریہ اس کی بحث ہے اس بناء پر کہ جس پر اس نے کلام اصل کو حمل کیاہے اور تمہیں معلوم ہے جو کچھ اس میں |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع