30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
علی ھذا ان یکون مافی الاصل موضوعا فی المصلی لاغیر ومافی الجامع فیما عداہ وفیہ مالایخفی[1] اھ ۔ اقول:بل کلاھما فی المصلی ولابعد فیہ التطبیق ما ذکرنا قال رحمہ اﷲ تعالٰی والاحسن ان یقال ظاھر الکتابین التعارض فیما عداموضع السجود فاما ان یکون مافی الجامع من القید المذکور قیدا اتفاقیا و اما ان یکون ما فی الاصل مقیدا بما فی الجامع [2]اھ و یزید،ان التوفیق اما بارجاع مافی الجامع الی مافی الاصل من اطلاق الکراھۃ سواء کانت فی محل السجود اوغیرہ والتقیید بکونھا فیہ وقع وفاقا او بارجاع مافی الاصل الی مافی الجامع بحمل المطلق علی المقید۔ |
چنانچہ مصنف حلیہ نے فرمایا میں کہتاہوں اس طور پرلازم آتاہے کہ جو کچھ اصل میں مذکورہے وہ اس تصویر کے بارے میں ہو جوصرف جانماز میں رکھی ہوئی ہو،اورجوکچھ جامع صغیر میں مذکورہے وہ اس کے علاوہ میں ہے اور اس میں جو کمزوری ہے وہ کسی پرپوشیدہ نہیں اھ۔اقول:(میں کہتا ہوں)بلکہ یہ دونوں جانماز کے متعلق ہیں،اور اس میں کوئی بعد نہیں بلکہ اس میں وہ طریقہ تطبیق ہے جو ہم نے ذکر فرمایامصنف حلیہ رحمہ اﷲ تعالٰی نے فرمایا زیادہ اچھی بات یہ ہے کہ کہاجائے کہ بظاہر دونوں کتابوں میں محل سجود کے علاوہ تعارض ہے(اور دونوں میں مطابقت کی صورت یہ ہے کہ)یایہ ہو کہ جامع صغیر میں جوقیدمذکورہے اس کو قید اتفاقی تسلیم کیاجائے یاجوکچھ اصل میں ہے وہ جامع صغیر کی عبارت سے مقیدہےاھ اورمزید موافقت کی صورت یہ ہے کہ جوکچھ جامع صغیر میں مذکورہے اسے اصل کی طرف راجع کیاجائے یعنی کراہت سے مطلق کراہت مراد ہو خواہ تصویر محل سجدہ میں ہو یامحل سجدہ میں نہ ہو،اور جامع صغیر میں جوتقیید واقع ہوئی وہ قیداتفاقی تسلیم کی جائے یاجوکچھ اصل میں مذکورہے وہ جامع صغیر کی طرف بایں طریقہ راجع ہے کہ یہاں مطلق مقید پرمحمول ہے۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع