30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
وتعلیلھم بامتناع الملٰئکۃ۔واقول:ظھر ایضا ان السؤال الذی اوردالمحقق الحلبی علی مسألۃ السجود علی التصویر لم یکن من الوارد ایضا لانہ ان انتفی فیہ فالتشبہ الخاص بل لانسلم انتفائہ ایضا فان السجود علی التصویر یشبہ عبادتہ قطعا کما نص علیہ فی الکافی ولفظہ السجود علیھا یشبہ عبادۃ الاوثان[1] والتبیین ونصہ السجود علیھا یشبہ عبادتھا فیکرہ[2] فانتفی ماذکر العلامۃ الشامی ان لاتشبہ فیہ اقول:وظھر ایضا ان الجواب الذی ابداہ فی الحلیۃ وظن انھم لم یذکروہ کلامھم محیط بہ کماعلمت وﷲ الحمد۔اقول:وبتحقیقنا ھذا یحصل التوفیق فی مسألتین الاولٰی کراھۃ الصلاۃ حیث کانت الصورۃ خلف فمن اثبت وھم الاکثرون |
سے حاصل ہے_________________ واقول:(اور میں کہتاہوں)اور یہ بھی ظاہر ہوگیا کہ تصویر پرسجدہ کرنے کے مسئلہ پرمحقق حلبی نے جوسوال اٹھایا وہ اصلًا واردنہیں کیونکہ اس میں اگر انتفاء بھی ہوتو تشبّہ خاص کاانتفاء ہوگا بلکہ ہم اس کاانتفاء بھی تسلیم نہیں کرتے،کیونکہ تصویر پرسجدہ کرنا یقینا اس کی عبادت کے مشابہ ہے جیسا کہ ''الکافی'' میں اس کی تصریح پائی گئی چنانچہ اس کے الفاظ یہ ہیں:کسی تصویر پرسجدہ کرناعبادت صنم کے مشابہ ہے۔اور التبیین کی تصریح یہ ہے:تصویر پرسجدہ کرنا اس کی عبادت کے مشابہ ہے لہٰذا مکروہ ہے،لہٰذا علامہ کایہ ذکرکرنا کہ اس میں کوئی تشبّہ نہیں،بلاشبہہ زائل ہوگیا۔اقول:(میں کہتا ہوں)اوریہ بھی واضح ہوگیا کہ "الحلیہ"میں اس کے مصنف نے جس جواب کوظاہرکیاہے اور یہ گمان کیاکہ ائمہ کرام نے اسے ذکر نہیں فرمایا حالانکہ ان کاکلام اس جواب پرمحیط ہے جیسا کہ آپ جانتے ہیں،اور اﷲ تعالٰی کے لئے ہی تعریف و توصیف ہے۔اقول:(میں کہتاہوں)ہماری اس تحقیق سے دو مسئلوں کے درمیان موافقت(اورمطابقت) پیداہوگئی۔ پہلامسئلہ جہاں تصویر پس پشت ہو توبھی نمازمکروہ ہے۔جن حضرات نے اس کو |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع