30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
|
(جومقصد شریعت ہے) اھ اور اس کامفہوم ہدایہ،کافی اور تبیین کے حوالہ سے پہلے گزرچکاہے(ت) |
ثم اقول:(پھرمیں کہتاہوں۔ت)تصویر کہ مصلی کے پس پشت ہو اسی حالت میں مکروہ ہے کہ منصوب یامعلق یادیوارپر منقوش یاچسپاں یاآئینہ میں لگی ہو او ریہ قطعًا تعظیم ہے،
|
فانتقی قول المعراج،لاتعظیم فیہ ولاتشبہ کما تقدم ولیت شعری اذا انتفیا فما الموجب للکراھۃ فان میل الی التمسك بامتناع الملٰئکۃ قلنا اذلا تعظیم فلاامتناع۔ |
لہٰذا مصنف معراج الدرایہ کاقول منفی اور زائل ہوگیا کہ اس صورت میں تعظیم اورتشبہ دونوں نہیں،جیسا کہ پہلے گزر چکاہے، کاش میں(اس رازکو)سمجھ لیتاکہ جب تعظیم اورتشبّہ دونوں منتفی اورزائل ہیں توپھروجہ کراہت کیا ہے۔اگرامتناع ملٰئکہ کے استدلال کی طرف میلان کیاجائے توہم کہتے ہیں جب تعظیم نہیں توامتناع کہاں ہے(ت) |
ثم اقول:شرع مطہر نے جس شے کی تعظیم حرام اور توہین واجب کی اس سے اگرایسابرتاؤکیجئے جس میں ایك جہت سے توہین اوردوسری جہت سے تعظیم ہو وہ حرام وناجائزہی ہوگا اوریہ نہیں کہہ سکتے کہ تعظیم وتوہین متعارض ہوکربرابرہوگئیں۔
|
اذلایجتمع الحلال والحرام الاغلب الحرام واعتبر ھذا لمن یقبل الوثن ویضربہ بالنعل فھل یقال تکافا التقبیل والضرب فیجوز،کلابل یحرم لانہ خلط عملاصالحا واخرسیئا۔ |
اس لئے کہ حلال اور حرام جمع نہیں ہوتے(مگر بربنائے احتیاط)حرام غالب ہوگا۔اور اس کا اعتبار اس شخص کے(متضاد کام سے)کیاجاسکتاہے کہ وہ ایك طرف توصنم کوچومتا چاٹتاہے اور دوسری طرف دیکھئے تو اس کی حالت یہ ہے کہ وہ جوتوں سے اسے مارتا پیٹتاہے توپھر اس کے متعلق یہ کہاجاسکتاہے کہ بوسہ بازی اورمارپیٹ دونوں کام باہم برابرہوگئے۔لہٰذایہ دونوں فعل جائزہوگئے،ہرگزایسانہیں،بلکہ اس کاصنم کوبوسہ دیناحرام ہے،یہاں اس صورت میں اس نے اچھے اوربرے فعل کوباہم مخلوط کردیاہے۔(ت) |
ولہٰذا محررالمذہب امام محمدرحمہ اﷲ تعالٰی ورحمنابہ(پس اس لئے مذہب کوقیدتحریر میں لانے والے حضرت امام محمد،اﷲ تعالی ان پر رحم وکرم فرمائے اور ان کے صدقے ہم سب پر بھی رحمت برسائے۔ت)نے کتاب الاصل میں سجادہ یعنی جانمازمیں تصویر کاہونا مطلقًا مکروہ ٹھہرایا اگرچہ تصویر پرسجدہ نہ ہوکہ جانمازمعظم ہے تو اس میں تصویرہوناتصویرکی تعظیم ہے اور یہ لحاظ نہ فرمایا کہ جانماززمین پربچھائی جائے گی اور زمین پربچھانا تصویر کی توہین ہے اس پرپاؤں رکھاجائے گا اور
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع