30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
میں ہوں جن پربیٹھیں،کھڑے ہوں،پاؤں رکھیں،یہ تقریر کلام مشائخ ہے وﷲ الحمد۔
ثم اقول:(پھرمیں کہتاہوں۔ت)جبکہ ہرتعظیم تشبّہ عبادت صورت ہے اور ہرتشبّہ عبادت ملائکہ کے لئے قطعًا موجب نفرت، توعارض ولازم میں تفرقہ محض بے اصل،تعلیق ونصب میں بھی تعظیم اسی فعل سے عارض ہو ئی نہ کہ نفس ذات صورت کو لازم تھی توبساط مفروش میں جب تصاویر کوموضع سجود میں رکھ کر ان پرسجدہ کیاجائے گا بعینہٖ انہیں معلق ومنصوب کرنے کے مثل ہوگا اور اس وقت دخول ملٰئکہ کومنع کرے گا کہ ان کاامتناع بوجہ تعظیم تھا اور تعظیم پائی گئی،
|
فمااستظھرہ الشامی غیر ظاھر فان فرق بان جعلھا فی المفروش اھانۃ لہا فتعارض تعظیم السجود علیھا فذٰلك امراٰخر غیر کون التعظیم عارضا وستعلم مافیہ بعون اﷲ تعالٰی اما قول الحلیۃ ذٰلك لیس بمانع من دخول الملٰئکۃ[1] کما افادتہ ھذہ النصوص اقول:لم تفد النصوص ان مجرد جعلھا فی فراش اووسادۃ یخرجھا عن منع الملٰئکۃ بل قیدتہ بقولہ منبوذتین توطّان وللنسائی فی رایۃ یجعل بساطا یوطأ [2] |
لہٰذا علامہ شامی نے جس کوظاہر قراردیا ہے وہ (در حقیقت) ظاہرنہیں اور اگریہ فرق کیاجائے کہ بچھے ہوئے فرش میں کسی تصویرکاہونا(اورپیوستگی رکھنا)اس کی توہین وتذلیل ہے اور اس پر سجدہ کرنے کی وجہ سے حصول تعظیم اس کے متعارض ومتصادم ہے تویہ اورچیزہے نہ یہ کہ تعظیم کا عارض ہوناہے اور ابھی تمہیں اﷲ تعالٰی کی مددسے معلوم ہوجائے گا جوکچھ اس میں کمزوری اورنقص ہے لیکن صاحب حلیہ کایہ کہنا کہ یہ دخول ملائکہ سے مانع نہیں جیسا کہ ان نصوص نے افادہ دیا۔میں اس کے متعلق گزارش کرتاہوں کہ نصوص سے یہ فائدہ حاصل نہیں ہواکہ کس تصویر کوفرش یا تکیے میں رکھنا اسے امتناع ملائکہ سے نکال دیتاہے بلکہ نصوص نے اس کو اس قول سے مقیدکیاہے کہ وہ تصویریں پھینکی ہوئی پامال شدہ ہوں(تاکہ ان کی صحیح اہانت اور تذلیل ہو)اور امام نسائی |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع