30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فیما استدل لہ بہ وان تبعہ فیہ الشیخ فی اشعۃ اللمعات ورجع اخرا الی استثناء کلب یحل اقتناؤہ و ذٰلك لانہ کم من فرق بین مارخصہ الشرع لحاجۃ و بین ماوقع من غیرالمرخص بدون علم وما مثلہ الا کنجاسۃ معفوۃ شرعا واخری کثیرۃ صلی معھا من دون علم بھا،اما ماذکر فی الصورۃ فلایصرح حدیث جبریل المذکور،وایضا اخرج البخاری والامام احمد عن ام المؤمنین انھا کانت اتخذت علی سھوۃ لھا سترافیہ تماثیل فھتکہ النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم قالت فاتخذت منہ نمرقتین فکانتا فی البیت نجلس علیھما[1] زاد احمد ولقد رأیتہ متکئا علی احدٰھما |
(میں کہتاہوں)جوکچھ امام نووی نے ارشاد فرمایا(اﷲ تعالٰی ان پررحمت برسائے او ران کے طفیل ہم پربھی رحمت کانزول فرمائے)کتے میں واضح نزاع کی وجہ سے اس کااحتمال ہے کہ جس سے موصوف نے استدلال کیاہے اگرچہ شیخ محقق عبد الحق محدث دہلوی رحمہ اﷲ نے بھی اس مسئلہ میں ان کا ساتھ دیاہے،او رآخرمیں اس کتے کااستثناء فرمایا کہ جس کی حفاظت کرنا شرعًا حلال اورجائزہے،یہ اس لئے کہ بڑا فرق ہے اس کے درمیان کہ جس کی کسی ضرورت سے شریعت نے اجازت اور رخصت دی اور اس کے درمیان کہ بغیر رخصت دئیے بغیر علم واقع ہوا۔اور اس کی مثال نہیں مگر اس مقدارنجاست کی طرح جوشرعًا معاف ہے۔ اور دوسری مقدارعفو سے بہت زیادہ ہے کہ بغیرعلم اس کے ساتھ کسی شخص نے نماز پڑھی۔لیکن جوکچھ تصویر (صورۃ)کے بارے میں ذکرکیاگیاہے توذکرکردہ حدیث جبریل اس کی کوئی تصریح نہیں کرتی،نیزبخاری اور امام احمد نے ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ کے حوالے سے اس کی تخریج فرمائی کہ مائی صاحبہ نے طاق پر ایك پردہ لٹکایا جس میں نقشی تصویریں تھیں،توحضوراکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع