30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
من کل وجہ[1]۔ |
ذلیل وخوارہے۔(ت) |
اقول:(میں کہتاہوں)او رعجب تریہ کہ باوصف انتفائے وصفین اثبات کراہت کی یہ توجیہ فرماکر اس کے متصل ہی وہ لکھاکہ:
|
قدظھر من ھذا ان علۃ الکراھۃ فی المسائل کلھا التعظیم اوالتشبہ وھل ھوالاتفریع علی النقض[2]۔ |
اس میں اختلاف کیاگیاجبکہ تصویرپیٹھ پیچھے ہو(کہ اس کاحکم کیاہے)پس زیادہ ظاہریہ ہے کہ کراہۃ ہوگی بیشك اس سے واضح ہوا کہ ان مسائل میں کراہت کی علت تعظیم یاتشبہ ہے،او ریہ تونہیں مگرتفریع برنقض۔(ت) |
یہ ہیں بظاہرسات رنگ کے اقوال وانا اقول:وباﷲ التوفیق وبہ الوصول الی ذری التحقیق(اورمیں کہتاہوں اﷲ ہی کی طرف سے توفیق ہے اور اسی سے ہے تحقیق کی بلندیوں تك پہنچنا۔ت)افادات مشائخ کرام کہ ہدایہ واتباع ہدایہ میں مذکور ہوئے ضرور حق وصحیح،اورہرغبار سے پاك ونجیح ہیں بیشك سواتشبّہ کے کچھ علت نہیں،اور بیشك تعظیم علت ہے،اور بیشك امتناع ملائکہ علت ہے،متاخرین کے اختلافات وترددات کامنشا ان امورثلٰثہ میں تفارق سمجھناہے حالانکہ ان میں باہم تلازم ہے تشبہ عبادت بے تعظیم ناممکن ہوناتو بدیہی کہ عبادت غایت تعظیم ہے جہاں اصلًا کسی طرح شائبہ تعظیم نہ ہو وہاں شبہ عبادت کیا معنی،ولہٰذا اگربساط مفروش میں تصویر ہو اور وہ بساط جانمازنہ ہو نہ مصلی تصویر پرسجدہ کرے تو ہمارے ائمہ کے اجماع سے اصلًا کراہت نہیں کہ اب کوئی وجہ تعظیم نہ پائی گئی توتشبہ عبادت کہ یہی علت تھا متحقق نہ ہوا کماتقدم من الکتب الثلٰثۃ و مثلہ فی سائرھن(جیساکہ تین کتابوں کے حوالے گزرچکے اورباقی کتابوں میں بھی اسی طرح ہے۔ت)یوہیں تعظیم تصویر تشبہ عبادت کومستلزم کہ تعظیم دونوں کوجامع ہے جب اس کادرجہ اعلٰی عبادت ہے ادنٰی میں اس سے مشابہت ہے اقول:(میں کہتا ہوں)یہ اس لئے کہ تصویر کوکوئی علاقہ رب عزوجل سے نہیں اور حقیقی مستحق ہرتعظیم وہی حقیقی جلیل عظیم عزجلالہ ہے معظمان دینی کی تعظیم اس کی طرف نسبت وعلاقہ سے ہے وہ غایت عظمت میں ہے تو غایت تعظم اعنی عبادت اسی کے لائق، دوسرے کہ اس سے منتسب ہیں،اپنی اپنی نسبتوں کے قدر اس کے حکم سے دیگرمعظمات نازلہ کے مستحق،تویہ تعظیمیں"اعطاء کل ذی حق حقّہ"کے قبیل سے ہوئیں بلکہ حقیقۃً اسی کی تعظیم ہیں،ولہٰذا حضورسیدالعالمین اعظم المعظمین صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:
|
ان من اجلال اﷲ اکرام ذی الشیبۃ |
بوڑھے مسلمان اور سنی عالم اورعادل بادشاہ کی |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع