30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
موضع السجود لان ذٰلك لیس بمانع من دخول الملٰئکۃ کما افادتہ ھذہ النصوص[1]،فان قلت الکراھۃ فی ھذہ الصورۃ انما ھی معللۃ بالتشبہ بعبادۃ الاصنام لاغیر قلت یمکن ان یقال وجود التشبہ المذکور فی ھذہ الصورۃ ممنوع فان عباد التماثیل والصور لا یسجدون علیھا وانما ینصبونھا ویتوجہون الیھا بل الذی ینبغی ان یکرہ علی ھذا مااذا کانت الصورۃ امامہ لافی موضع سجودہ اللھم الا ان یقال انھا اذا کانت امامہ فی موضع سجودہ تکون فی الصلٰوۃ صورۃ الشبہ بالعبادۃ لھا فی حالۃ القیام والرکوع ثم فی حالۃ السجود علیھا ان لم یوجد التشبہ بعبادتھا فھو لایعری عن نوع شبہ بتعظیم الصور لان ذٰلك یشبہ فی صورۃ الخضوع لھا وتقبیلھا ولاباس بھذا التوجیہ وان لم یذکروہ۔ |
مکروہ نہ ہوکہ جس میں تصویرہواگرچہ وہ جائے سجدہ میں ہو کیونکہ یہ دخول ملائکہ سے مانع نہیں جیساکہ ان نصوص نے افادہ بخشا۔اگرکہاجائے کہ اس صورت میں کراہت معللہ کی علت صرف تشبہ عبادت اصنام ہے اورکچھ نہیں۔میں کہتا ہوں ممکن ہے یہ کہاجائے کہ اس صورت میں"تشبہ" مذکور کاپایاجانا ممنوع(غیرمسلم)ہے اس لئے کہ مورتیوں اور تصویروں کے پجاری ان پرسجدہ نہیں کرتے بلکہ انہیں کھڑا کرکے ان کی طرف متوجہ رہتے ہیں بلکہ مناسب یہ ہے کہ اس صورت میں کراہت اس وقت ہو کہ جب تصویر اس کے آگے ہونہ کہ اس کے محل سجدہ میں ہو۔اے اﷲ! تیری ہی نصرت سے یہ کہا جائے کہ جب تصویر اس کے آگے اس کی جائے سجدہ میں ہوتو پھرنماز میں بحالت قیام اوررکوع تشبہ عبادت صورتًا پایاجائے گا،پھرتصویر پرسجدہ کرنے کی صورت میں اگرچہ تصویر کے لئے تشبہ عبادت نہ پایاجائے گا تاہم یہ حال اس سے خالی نہ ہوگا کہ اس میں تعظیم تصویر کا ایك نوع شبہ ہوگا،کیونکہ یہ صورت تصویر کے لئے عاجزی اور اس کی بوسہ زنی کے مشابہ ہوگی اور اس توجیہ کے ذکر کرنے میں کچھ حرج نہیں اگرچہ ائمہ کرام نے اسے ذکرنہیں فرمایا۔(ت) |
علامہ شامی نے تشبّہ وتعظیم دوعلتیں رکھیں اورامتناع ملائکہ سے تعلیل کونامناسب ٹھہرایا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع