30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فیہ صورۃ مھانۃ مع عموم الحدیث ان الملٰئکۃ لاتدخلہ وھو علۃ الکراھۃ لوجود مخصص(الٰی ان قال)الا ان تکون صغیرۃ لان الصغار جدا لاتعبد والکراھۃ انما کانت باعتبار شبہ العبادۃ کذا قالوا وقد عرفت مافیہ[1] اھ قال فی منحۃ الخالق مافیہ ای ان العلۃ لیست التشبہ بل عدم دخول الملٰئکۃ علیھم السلام[2] اھ اقول:کل کلامہ ھٰھنا ماخوذ عن الحلیۃ و ان لم یعزالیھا ولم یقدم ماقدم ھو لنفی علیۃ التشبہ من لزوم ان لاتکرہ اذا لم تکن امامہ ولا فوقہ فلم یستقم لہ قولہ قدعرفت مافیہ۔ |
مکروہ نہیں کہ جس میں تصویر کی تذلیل ہو باوجود عموم حدیث کہ تصویر والے گھر میں فرشتے داخل نہیں ہوتے،اور ان کا غیردخول کراہت کے لئے علت ہے باوجودیکہ اس کا مخصص موجودہے،یہاں تك کہ فرمایا،مگریہ کہ تصویرچھوٹی ہو،کیونکہ بلاشبہہ چھوٹی تصویروں کی عبادت نہیں ہوتی،اور کراہۃ باعتبار شبہ عبادت ہے،ائمہ کرام نے یونہی ذکر فرمایا۔ اور تمہیں معلوم ہے جوکچھ اس میں کمزوری ہے اھ،منحۃ الخالق میں فرمایا جوکچھ اس میں ہے(مافیہ)یعنی علت محض تشبّہ نہیں بلکہ ملائکہ کرام علیہم السلام کاوہاں عدم دخول ہے اھ اقول:(میں کہتاہوں)یہاں ان کاسارا کلام الحلیہ سے ماخوذ ہے اگرچہ اس کی طرف نسبت نہیں کی اورمقدم نہیں کیا (یعنی پہلے ذکرنہیں کیا)جوکچھ اس نے مقدم کیاتھا"علیۃ"تشبّہ کی نفی کے لئے بوجہ اس لزوم کے کہ نمازمکروہ نہیں ہوتی جبکہ تصویرآگے اوراوپرنہ ہو۔لہٰذا اس کایہ کہنا کہ قدعرفت مافیہ ٹھیك اور مستقیم نہیں۔(ت) |
پھرمحقق حلبی نے اثنائے کلام میں دوعلت باقی اعنی تشبّہ وتعظیم کی طرف بھی میل فرمایا یہاں تك کہ صورت تشبّہ وشبہہ تعظیم کوموجب ٹھہرایا،اور بحرنے بدستوراتباع کیا،
|
وھذا نص الحلیۃ بعد ماقدمنا عنھا وذکر الاحادیث المخصصۃ،قال نعم علی ھذا یقال ینبغی ان لاتکرہ الصلٰوۃ علی بساط فیہ صورۃ وان کانت فی |
حلیہ کی یہ تصریح،اس کے بعد سے جوکچھ ہم اس کے حوالہ سے پہلے بیان کرآئے ہیں اور بعد ذکرفرمانے احادیث مخصصہ کے فرمایا چنانچہ اس نے کہا کہ ہاں اس روش پریہ کہاجاسکتاہے کہ پھرتومناسب ہے کہ نماز ایسے بچھونے پر |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع