30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فی وسادۃ ملقاۃ فالجواب لایکرہ جعلھا فی المکان کذٰلك لیتعدی الی الصلٰوۃ وحدیث جبریل مخصوص بذٰلك [1] اھ ملخصا۔ |
مصنف علیہ الرحمۃ پراعتراض کیاجاسکتاہے اس لئے کہ وہ فرما رہے ہیں کہ اگرپڑے ہوئے گدے میں تصویر ہو تو کراہت نہ ہوگی،تو اس کاجواب یہ ہے کہ مکان میں بایں طور تصویر رکھنا مکروہ نہیں تاکہ نمازکی طرف تعدیہ ہو۔اور حدیث جبریل اس سے مخصوص ہے اھ ملخصًا(ت) |
ان کے تلمیذ محقق ابن امیرالحاج نے حلیہ میں صرف امتناع ملٰئکہ کے علت ہونے کااستظہار اور تشبہ پرمدار سے انکارفرمایا،ہاں اسے موجب زیادت کراہت بتایا،
|
وھذا نصہ فان قیل ان کانت العلۃ فی الکراھۃ کون المحل الذی تقع فیہ الصلٰوۃ لاتدخلہ الملٰئکۃ حینئذ لان شرالبقاع بقعۃ لاتدخلہ الملٰئکۃ فینبغی ان تکرہ الصلٰوۃ فی بیت فیہ الصورۃ سواء کانت مھانۃ اوغیرمھانۃ فان ظاھر نص الصحیحین عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لاتدخل الملٰئکۃ بیتا فیہ کلب ولاصورۃ یقتضی انہ لاتدخل الملٰئکۃ ھذا البیت ایضا(ای مافیہ الصورۃ مھانۃ)لان النکرۃ فی سیاق النفی عامۃ غایۃ الامر ان کراھۃ الصلٰوۃ فیما |
چنانچہ محقق موصوف کی یہ تصریح ہے،اگرکہاجائے کہ کراہت کی علت گھر میں فرشتوں کاداخل نہ ہونا ہے تو جس گھر میں تصویر موجود ہووہاں نمازمکروہ ہو وہ تصویر خواہ تذلیل کی صورت میں ہو یاغیرتذلیل کی صورت میں ہو،کیونکہ بخاری اورمسلم کی ظاہر نص یہی چاہتی ہے کہ اس گھر میں فرشتے داخل نہ ہوں گے جس میں تصویر بصورت تذلیل ہی رکھی ہو کیونکہ نکرہ سیاق نفی میں عام ہوتاہے،اور نص جو حضوراکرم(صلی اﷲ تعالٰی علیہ وآلہٖ وسلم)سے مروی ہے وہ یہ ہے کہ اس گھر میں فرشتے داخل نہیں ہوتے کہ جس میں کتایاتصویرموجودہو۔(نکرہ سیاق نفی میں عام ہوتاہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ حدیث پاك میں لفظ"بیتا" نکرہ ہے جس کا معنی"کوئی گھر"ہے اور یہ"لاتدخلہ"جوجملہ منفیہ ہے اس کے تحت داخل ہے یعنی فرشتے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع