30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
واللفظ للھدایۃ،لو لبس ثوبافیہ تصاویر یکرہ لانہ یشبہ حامل الصنم والصلٰوۃ جائزۃ فی جمیع ذٰلك لاستجماع شرائطہا وتعاد علی وجہ غیرمکروہ۔[1] |
ہدایہ میں یہ الفاظ ہیں کہ اگرکسی نے ایساکپڑاپہنا کہ جس میں تصویریں ہیں تومکروہ ہے اس لئے کہ یہ حالت بت اٹھانے والے کے مشابہ ہے اور نماز ان تمام صورتوں میں جائز ہے،اس لئے کہ اس کی تمام شرائط موجود ہیں البتہ غیرمکروہ صورت پرنماز کولوٹایاجائے۔(ت) |
اس حصر کے منافی نہیں کہ وقت عبادت حامل صنم سے مشابہت بھی عبادت صنم سے مشابہت ہے مگرانہیں کتب سے تعلیل مسائل میں دو علتیں اور مفہوم ہوتی ہیں،ایك یہ کہ جہاں تصویر ممنوع رکھی ہو ملائکہ اس مکان میں نہیں جاتے اور جس مکان میں ملائکہ رحمت نہ آئیں وہ ہرجگہ سے بدترہے،دوسرے تعظیم تصویر۔ہدایہ میں ہے:
|
یکرہ ان یکون فوق راسہ فی السقف او بین یدیہ او بحذائہ تصاویر اوصورۃ معلقۃ لحدیث جبریل انا لاندخل بیتا فیہ کلب وصورۃ[2]۔ |
یہ مکروہ ہے کہ کسی انسان کے سر کے اوپرچھت میں تصویرلگی ہوئی ہو یا اس کے سامنے ہو یااس کے مقابل تصویریں ہوں یاکوئی تصویرلٹکی ہوئی ہو،اور اس کراہت کی وجہ حدیث جبرائیل ہے کہ انہوں نے فرمایا:"ہم ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے کہ جس میں کتایاتصویرہو۔(ت) |
کافی میں اتنا زائدکیا:
|
وبیت لاتدخل فیہ الملٰئکۃ شرالبیوت[3]۔ |
جس گھر میں فرشتے داخل نہ ہوں وہ بدترین گھرہے۔(ت) |
امام زیلعی نے دونوں تعلیلوں کو جمع فرمایا:
|
حیث قال لقولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لاتدخل الملٰئکۃ بیتا فیہ |
چناچہ حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام کے اس ارشاد کی وجہ سے فرمایا اور وہ یہ ہے کہ فرشتے ایسے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع