30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
دیکھئے جبریل امین علیہ الصلوٰۃ والتسلیم نے بھی عرض کی کہ ان تصویروں کے سرکاٹنے کاحکم فرمادیجئے جس سے ان کی ہیأت درخت کے مثل ہوجائے حیوانی صورت نہ رہے اس کا صریح مفاد تو وہی ہے کہ بے قطع راس حکم منع نہ جائے گا کہ بغیر اس کے نہ پیڑ کی مثل ہوسکتی ہیں نہ صورت حیوانی سے خارج،اور اگرتنزل کیجئے تو اس قدرتولازم کہ ایساکردیجئے جس سے وہ ایك بے جان کی صورت معلوم ہو اس سے حالت بے روحی مفہوم ہو، ولہٰذا علامہ سیدطحطاوی رحمہ اﷲ تعالٰی نے اسی قولِ دُر کی شرح میں فرمایا:
|
قولہ لاتعیش بدونہ انما لاتکرہ الصلٰوۃ الیھا لانھا صورۃ میت وھو لایعبد[1] اھ اقول:والاولٰی وھی لاتعبد لان المشرکین انمایعبدون المیت قال اﷲ تعالٰی " "اَمْوٰتٌ غَیۡرُ اَحْیَآءٍ[2]،نعم لایصورونھم صورۃ میت بل حی۔ |
مصنف کاارشاد کہ اس کے بغیر زندگی نہ ہو۔پس ایسی تصویر کی طرف منہ کرکے نمازپڑھنا مکروہ نہیں کیونکہ وہ مردے کی تصویر ہے جبکہ مردے کی عبادت نہیں کی جاتی اھ۔اقول: (میں کہتاہوں کہ)زیادہ بہتریہ ہے کہ کہاجاتا کہ مردے کی صورت کی عبادت نہیں کی جاتی،اس لئے کہ مشرك تومُردوں کی عبادت کیاکرتے ہیں،یہی وجہ ہے کہ اﷲ تعالٰی نے ارشاد فرمایا:"وہ مُردے ہیں جو زندہ نہیں"ہاں یہ ضرور ہے کہ وہ مُردوں کی صورت پر ان کی تصویریں نہیں بناتے بلکہ زندوں کی صورت پر ان کی تصویریں بناتے ہیں۔(ت) |
اور شك نہیں کہ عکسی تصویریں اگرچہ نیم قد یاسینہ تك بلکہ اگر صرف چہرہ کی ہو ہرگزنہ مثل شجرہوتی ہیں نہ مردہ،ذوالصورۃ کی حکایت کرتی ہیں بلکہ یقینا جیتے جاگتے کی صورت دکھاتی ہیں،اور ناظرین کا ذہن ان سے حالت حیات ذوالصورۃ ہی کی طرف جاتاہے کوئی نہیں سمجھتا کہ یہ مردہ کی صورت ہے اور مدار حکم اسی فہم پرتھا،نہ حیات وموت حقیقی پرجس سے تصویر کوبہرہ نہیں۔آیا نہیں دیکھتے کہ سلاطین نصارٰی اپنی ایسی ہی ناقص تصویریں سکہ پرمنقوش کراتے ہیں اگر اس سے حالت موت مفہوم ہوتی تو کبھی نہ چاہتے کہ سکہ میں اپنی مردہ کی صورت دکھائیں تو انصافًا یہ عبارتِ دُرمختار بھی ان تصویروں سے نفی ممانعت نہیں کرتی وہ اس تصویر کے لئے ہے جسے توڑپھوڑ کر اس حالت پرکردیں کہ اس میں حالت حیات کی حکایت نہ رہے جو اسے دیکھے میت بے روح کی صورت جانے۔اقول:(میں کہتاہوں۔ت)اور اب عجب نہیں کہ چہرہ کے سوادیگر اعضائے مدارحیات کے عدم اصلی واعدام بنقض وابطال میں معنی مقصود بحکایۃ الحیاۃ عرفًا مفہوم ہونے نہ ہونے سے بعض صورمیں فرق پیداہو بخلاف چہرہ کہ سرے سے نہ بنایا یا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع