30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
بلفظ الظاھر فی الموضعین من شدۃ ورعہ رحمہ اﷲ تعالٰی والا فالحکم مقطوع بہ فیھما ولایتوھم احد ان لو ربط خیط فی عنق صورۃ انسان لابھیمۃ اوفی وسطھا ذھب الحکم الشرعی وجاز اقتناؤھا،ثم لیس حاصلہ الامثل مافی الفتح ان کل ما لاینافی الحیاۃ لاینفی الکراھۃ ولایلزم منہ ان کل ماینافی الحیاۃ ینفی الکراھۃ کمالایخفی الاتری ان کل مالاینافی الانسانیۃ لاینفی الحیوانیۃ اذ لونفی الحیوانیۃ ینافی الانسانیۃ ولیس ان کلما ینافی الانسانیۃ ینفی الحیوانیۃ کالصھیل والنھیق و التوھب فان کل ذٰلك ینافی الانسانیۃ و لاینافی الحیوانیۃ۔ |
تعالٰی اعلم،اقول:(میں کہتاہوں)لفظ"ظاہر"دوجگہ ذکر کرنے سے مصنف علیہ الرحمۃ کی شدت ورع اور احتیاط ہے ورنہ دونوں میں حکم یقینی ہے اورکوئی یہ وہم نہ کرے کہ اگرکسی انسانی تصویر کی گردن میں کوئی دھاگہ باندھاجائے یا اس کے وسط (درمیان)میں ایساکیاجائے نہ کہ چوپایہ میں۔ پس اس صورت میں حکم شرعی ختم ہوجائے گا اورپھر اس کو محفوظ رکھناجائزہوگا۔پھر اس کا حاصل بالکل وہی ہے جو فتح القدیر میں مذکورہے،جوچیزحیات کے منافی نہ ہو تووہ کراہت کی نفی نہیں کرتی اور اس سے یہ لازم نہیں آتاکہ جوچیزحیات کے منافی ہو وہ کراہت کی نفی کرتی ہے جیساکہ یہ امرمخفی اور پوشیدہ نہیں،کیاتم دیکھتے نہیں کہ جوچیز انسانیت کے منافی نہیں وہ حیوانیت کی نفی نہیں کرتی کیونکہ اگر حیوانیت کی نفی ہوتو انسانیت کی نفی ہوجائے،اورایسانہیں کہ جوانسانیت کے منافی ہو اس سے حیوانیت کی نفی ہوجائے جیسے صہیل (گھوڑے کا ہنہنانا)اور نہیق(گدھے کاڈِھیچوں کرنا)اور ترہب(راہب بننا)اس لئے کہ یہ سب کچھ انسانیت کے منافی ہے لیکن حیوانیت کے منافی نہیں۔(ت) |
عجب نہیں کہ مدقق علائی نے انہیں عبارات فتح وحلیہ کودیکھ کریہ تعمیم اضافہ فرمائی ہوحالانکہ وہ مفیدتعمیم نہیں،ہاں کلام امام ابو جعفر طحاوی میں فقیر نے اس کی طرف اشارہ پایا،
|
حیث قال رحمہ اﷲ تعالٰی بعد مااحتج علی من قال بکراھۃ الصورۃ مطلقا ولو لغیر حیوان کشجر |
چنانچہ امام طحاوی رحمۃ اﷲ علیہ نے ان لوگوں کے خلاف استدلال پیش کرنے کے بعدفرمایا جنہوں نے یہ کہہ دیا کہ تصویر مطلقًا مکروہ ہے اگرچہ غیرحیوان کی کیوں نہ ہو،مثلًا درخت وغیرہ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع