30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
الکراھۃ لان من الطیر ماھو مطوق فلایتحقق القطع بذٰلك کذا ذکروہ ھو قاصر علی الطیر والظاھر ان الکراھۃ لاتنتفی فی غیرہ من الحیوانات بھذا الضنیع کمالاتنتفی فیہ فیحتاج الغیر الی توجیہ غیر ھذاولعل الاولی ان یقال لان الحیوان الحی قدیجعل علی رقبتہ شیئ ساترلھا من خیط اوغیرہ لغرض من الاغراض فیکون ھذا بمنزلتہ فلاتزول بہ الکراھۃ ثم لم اقف علی انہ لو فصل بین نصفہ الاعلی والاسفل بخیط حتی صار کانہ مقطوع شطرین ھل تزول الکراھۃ الظاھر انھا لاتزول کمافی الراس لنحو ماذکرنا انفا فی الراس ولاسیما فی الاٰدمی فان ذٰلك یکون فیہ بمنزلۃ شد الوسط واﷲ تعالٰی اعلم[1] اھ۔ اقول:والاتیان |
نہ ہوگی کیونکہ کچھ پرندے مطوق(یعنی طوق کئے ہوئے ہوتے ہیں)تو اس سے قطع نہیں پایاجاتا چنانچہ ائمہ کرام نے اسی طرح ذکرفرمایا۔اور یہ صرف پرندے میں منحصر(بند) ہے۔لیکن ظاہریہ ہے کہ کراہت باقی حیوانات میں بھی اس توجیہ کے علاوہ کسی اورتوجیہ کی ضرورت ہے،شاید اولٰی یہ ہے کہ کہاجائے کہ کبھی ایساہوتاہے کسی نہ کسی غرض کی وجہ سے۔اکثردھاگہ وغیرہ کسی حیوان کی گردن پررکھ دیاجاتاہے جو اس کی گردن کوڈھانپ دیتاہے۔لہٰذا یہ اس کی جگہ یعنی اس کے قائم مقام ہے،پس اس سے کراہت زائل نہ ہوگی۔ پھرمیں اس پرواقف اور مطلع نہیں ہواکہ اگرنصف اعلٰی اور نصف اسفل(یعنی اوپراورنیچے کے حصہ میں)کسی دھاگے سے فصل کردیاجائے اور وہ اس طرح ہوجائے کہ گویا دو حصوں میں قطع کردیاگیاہے تو کیااس صورت میں کراہت زائل ہوجائے گی یانہیں؟ ظاہریہ ہے کہ کراہت زائل نہ ہوگی،جیسا کہ حالت رأس(سر)میں کراہت زائل نہ ہوگی بشرطیکہ رأس میں اس طریقہ کے مطابق کارروائی کی جائے کہ جس کو رأس میں ہم نے بیان کیاہے،خصوصًا انسان میں، کیونکہ اس میں وہ کاروائی کمربستگی کے قائم مقام ہے۔واﷲ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع