30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
طلقتك فھذا یقع بہ الطلاق الرجعی لان ھذہ الالفاظ تستعمل فی الطلاق ولاتستعمل فی غیرہ فکان صریحا وانہ یعقب الرجعۃ بالنص ولایفتقر الی النیۃ لانہ صریح فیہ لغلبۃ الاستعمال[1] اھ اقول:فمناط الصراحۃ ھو غلبۃ الاستعمال کما افاد اٰخرا ممالم یستعمل فی غیرالطلاق کان اولٰی بالصراحۃ فیہ فلذا علل الصراحۃ بہ فی الالفاظ الثلٰثۃ وھو لایفید ان یستعمل فی غیرہ نادرا لایکون صریحا فیہ وبالجملۃ وھو تعلیل بما یتضمن العلۃ مع شیئ زائد یفیدہ من باب اولٰی کذا ھٰھنا مناط المنع ھو الراس ولووحدہ فاذا کان جمیع مایحتاج الیہ للحیاۃ باقیا تضمن العلۃ شیئ مع زائدہ افاد المنع |
کہنا(اپنی منکوحہ کومخاطب کرتے ہوئے)توطلاق والی ہے (انت طالق)،توطلاق ہوگئی ہے(انت مطلقۃ)میں نے تجھے طلاق دے دی(طلقتک)پس ان الفاظ سے طلاق رجعی واقع ہوگئی۔اس لئے کہ الفاظ مذکورہ صرف طلاق میں استعمال کئے جاتے ہیں لہٰذا کسی دوسرے مفہوم میں استعمال نہیں کئے جاتے(اس لئے یہ طلاق کے الفاظ صریحہ ہیں)لہٰذا ان میں سے کسی ایك کے وقوع کے بعد رجعت ہوگی،او ریہ محتاج نیت نہیں،اس لئے کہ یہ افادیت معنٰی نہیں،"صریح" ہیں، اور اس کی وجہ غلبہ استعمال ہے اھ۔اقول:(میں کہتا ہوں۔ ت)صراحت کامدار غلبہ استعمال ہے جیسا کہ آخر میں صاحب ہدایہ نے یہ افادہ پیش کیا،جو الفاظ بغیر طلاق نہ استعمال کئے جائیں وہ باب طلاق میں صریح ہونے کے زیادہ لائق ہیں۔ لہٰذا یہی وجہ ہے کہ مصنف نے الفاظ ثلاثہ مذکورہ میں صراحت بالطلاق ہونے کی تعلیل ذکرفرمائی ہے،یعنی الفاظ مذکورہ طلاق صریح کے الفاظ ہیں اور علت غلبہ استعمال ہے اور یہ اس بات کیلئے مفیدنہیں کہ اگرالفاظ مذکورہ بطورنادر غیر طلاق میں استعمال کئے جائیں توپھر وہ مفہوم طلاق میں صریح نہ ہوں گے(بلکہ اس کے باوجود وہ صریح طلاق کے الفاظ ہیں) (خلاصہ کلام)وہ ایك ایسی چیز |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع