30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
طرف اشارہ سمجھاگیا:
|
اذ قال لوقطع یدیھا ورجلیھا لاترفع الکراھۃ لان الانسان قدتقطع اطرافہ وھو حی[1]۔ |
جبکہ فتح القدیرمیں فرمایا اگرکسی نے تصویر(فوٹو)کے ہاتھ پاؤں کاٹ دئیے توکراہت مرفوع نہ ہوگی اس لئے کہ کبھی انسان کے اطراف یعنی ہاتھ پاؤں وغیرہ کاٹ دئیے جاتے ہیں مگراس کے باوجودوہ زندہ ہوتاہے۔(ت) |
علامہ طحطاوی نے اس سے وہ تعمیم استنباط فرمائی حاشیہ مراقی الفلاح میں لکھا:
|
افاد بھذا التعلیل ان قطع الراس لیس بقید بل المراد جعلھا علی حالۃ لاتعیش معھا مطلقا[2]۔ |
اس تعلیل نے یہ فائدہ دیا کہ قطع الراس کاذکر بطور قیدنہیں بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ تصویر کوایسی حالت میں کردینا کہ جس کی موجودگی میں وہ مطلقًا زندہ نہ رہ سکے۔(ت) |
اقول:(میں کہتاہوں۔ت)اس استنباط میں نظرظاہرہے،
|
فان حاصل کلام الفتح ان ھذا مکروہ لکونہ علی حالۃ یعاش معھا وکل ماکان کذا فھو مکروہ ولایلزم منہ ان کل ماھو مکروہ فھو کذا فان الموجبۃ الکلیۃ لا تنعکس کنفسھا ووجدت نظیرہ فی الھدایۃ اذقال الطلاق علی ضربین صریح وکنایۃ فالصریح قولہ انت طالق ومطلقۃ و |
فتح القدیر کے کلام کاحاصل یہ ہے کہ یہ مکروہ ہے اس لئے کہ شیئ ایسی حالت پرہے کہ جس کی موجودگی میں زندگی پائی جا سکتی ہے(مرادیہ کہ وہ حالت مانع حیات نہیں)اورہرکام جو اس طرح ہو وہ مکروہ ہے لیکن اس سے یہ لازم نہیں آتا۔ہرکام جو مکروہ ہے وہ اس طرح ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ موجبہ کلیہ کاعکس بنفسہا نہیں(یعنی موجبہ کلیہ کاعکس موجبہ کلیہ نہیں) میں نے ہدایہ میں اس کی نظیرپائی ہے کیونکہ صاحب ہدایہ نے فرمایا کہ طلاق کی دو۲قسمیں ہیں:(۱)صریح، (۲) کنایہ، چنانچہ طلاق صریح کی مثال مثلًا یہ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع