30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
الطحاوی عن ابن عباس والامام احمد وابوداؤد عن جابر بن عبداﷲ وعمر بن شیبۃ والامام الطحاوی عن اسامۃ بن زید رضی اﷲ تعالٰی عنھم کما فصلناہ فی فتاوٰنا۔ |
اس کامفہوم او رمعنی یہی ہے،امام طحاوی نے حضرت عبداﷲ بن عباس سے۔امام احمد،ابوداؤد نے حضرت جابربن عبداﷲ کے حوالہ سے۔اور عمربن شیبہ اورامام طحاوی نے اسامہ بن زید سے اس کو روایت کیاہے رضی اﷲ تعالٰی عنہم۔جیسا کہ ہم نے اپنے فتاوٰی میں اس کو مفصل بیان کیاہے۔(ت) |
ہاں بادی النظرمیں یہاں یہ شبہ گزرسکتاہے کہ صاحبزادہ موصوف کی یہ تصویر صرف سینے تك ہے اور انسان اتنے جسم سے زندہ نہیں رہتا۔اوردرمختارمیں ہے کہ جب تصویر سے وہ عضو محوکردیاجائے جس کے بغیرحیات نہ ہو تو وہ ممانعت سے مستثنٰی ہے۔
|
حیث قال(اوکانت صغیرۃ)لاتتبین تفاصیل اعضائھا للناظر قائما وھی علی الارض ذکرہ الحلبی (او مقطوعۃ الراس اوالوجہ)اوممحوۃ عضو لاتعیش بدونہ(اولغیرذی روح)لایکرہ[1]۔ |
چنانچہ فرمایا اگرتصویر اتنی چھوٹی ہوکہ زمین پررکھی ہو تو کھڑے ہوکردیکھنے والے کو اس کے اعضاء کی تفصیل معلوم نہ ہوسکے۔چنانچہ حلبی نے اس کو بیان فرمایا یا اس کا سریاچہرہ کاٹ دیاگیاہو یا اس کے کسی ایسے اندام کو مٹادیاگیاہو کہ جس کے بغیروہ زندہ نہ رہ سکے،یاکسی غیرجاندار کی تصویر ہو تو ان ساری صورتوں میں کراہت نہ ہوگی(ت) |
اوربنانے کے بعد مٹادینا اور سرے سے نہ ہونا دونوں کاایك حکم ہے۔ردالمحتارمیں ہے:
|
قولہ اومقطوعۃ الرأس ای سواء کان من الاصل اوکان لھا رأس ومحی[2]۔اقول:و باﷲ التوفیق وبہ الوصول الی ذری التحقیق۔ |
مصنف کاقول کہ یاتصویر کاسرکاٹ دیاگیا،یعنی اصل سے اس کا سرنہ ہو،یاسرہولیکن اسے مٹادیاگیاہو۔اقول:(میں کہتا ہوں)اﷲ تعالٰی کے کرم ہی سے توفیق حاصل ہوتی ہے اور اسی کی وجہ سے آدمی تحقیق کی چوٹی تك پہنچ سکتاہے(ت) |
یہاں یہ قول اس کاہوسکتا ہے جس نے خدمت فقہ وحدیث نہ کی،نہ اسے مقاصد شرع پرنظرملی،اولًا مقام تنقیح میں سرے سے یہ عبارت دُرہی محل نظرہے فقیرنے جس قدرکتب فقہیہ متون وشروح
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع