30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نیزصحیحین بخاری ومسلم میں ام المومنین صدیقہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا سے ہے:
|
لمااشتکی النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ذکر بعض نسائہ کنیسۃ یقال لہا ماریۃ وکانت ام سلمۃ وام حبیبۃ رضی اﷲ تعالٰی عنھما اتتاارض الحبشۃ فذکرتا من حسنھا وتصاویرفیھا فرفع صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم رأسہ فقال اولٰئك اذا مات فیھم الرجل الصالح بنوا علی قبرہ مسجدا ثم صوّروا فیہ تلك الصور و اولٰئك شرار خلق اﷲ عنداﷲ[1]۔ |
جب حضورصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم بیمارہوئے توآپ کی بعض بیویوں نے ایك گرجے کاذکر فرمایا کہ جس کوماریہ کہاجاتاتھا چنانچہ سیدہ ام سلمہ اور ام حبیبہ رضی اﷲ تعالٰی عنہما(اﷲ تعالٰی ان دونوں سے راضی ہو)ملك حبشہ میں تشریف لے گئیں، پھرانہوں نے وہاں یہ گرجا دیکھا،دونوں نے اس کے حسن او ر اس میں سجی تصویروں کاتذکرہ فرمایا،تو حضوراقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے اپنا سرمبارك اٹھاکرفرمایا:جب ان لوگوں میں کوئی نیك اور صالح آدمی مرجاتا تو اس کی قبرپرمسجد تعمیرکرتے پھر ان تصویروں کوسجاکر اس میں رکھ دیتے وہی اﷲ تعالٰی کی بدترین مخلوق ہیں۔(ت) |
مرقاۃ شرح مشکوٰۃ شریف میں ہے:
|
صوروا ای صور الصلحاء تذکیرابھم ترغیبا فی العبادۃ لاجلھم ثم جاء من بعدھم فزیّن لھم الشیطٰن اعمالھم وقال لھم سلفکم یعبدون ھذہ الصور فوقعوا فی عبادۃ الاصنام[2]۔ |
(حدیث شریف میں ہے کہ)وہ نادان لوگ اچھے اورصالح لوگوں کی تصویریں بناکر اپنی عبادت گاہوں میں سجاکررکھ دیتے تاکہ ان کی یاد آتی رہے اور ان کے ذریعے عبادت الٰہی کی طرف رغبت پیدا ہو۔پھر ان کے بعد جب اورلوگ دنیامیں آئے توشیطان نے پہلوں کے کارنامے ان آنے والے لوگوں کی نگاہوں میں آراستہ کرکے پیش کئے اور ان سے کہاکہ تمہارے اسلاف ان تصویروں کی پرستش کیاکرتے تھے،توپھر یہ بھی ان کی عبادت میں مصروف ہوگئے۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع