30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اﷲ عزوجل ابلیس کے مکر سے پناہ دے،دنیا میں بت پرستی کی ابتداء یوہیں ہوئی کہ صالحین کی محبت میں ان کی تصویریں بناکرگھروں اورمسجدوں میں تبرکا رکھیں اور ان سے لذت عبادت کی تائید سمجھی،شدہ شدہ وہی معبود ہوگئیں،صحیح بخاری وصحیح مسلم میں عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے آیہ کریمہ:
|
"وَ قَالُوۡا لَا تَذَرُنَّ اٰلِہَتَکُمْ وَ لَا تَذَرُنَّ وَدًّا وَّ لَا سُوَاعًا ۬ۙ وَّ لَا یَغُوۡثَ وَ یَعُوۡقَ وَ نَسْرًا ﴿ۚ۲۳﴾"[1] |
کافروں نے کہا ہرگز اپنے خداؤں کونہ چھوڑو،اور ود،سواع، یغوث،یعوق اور نسر کو کبھی نہ چھوڑو۔(ت) |
کی تفسیرمیں ہے:
|
قال کانوا اسماء رجال صالحین من قوم نوح فلما ھلکوا اوحی الشیطان الٰی قومھم ان نصبوا الی مجالسھم التی کانوا یجلسون انصابا وسموھا باسمائھم ففعلوا فلم تعبد حتی اذا ھلك اولٰئك ونسخ العلم عبدت[2]۔ |
حضرت ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما نے فرمایا یہ حضرت نوح(علیہ السلام)کی قوم کے نیك اور پارسالوگوں کے نام ہیں،جب وہ وفات پاچکے توشیطان نے بعد والوں کے دلوں میں وسوسہ ڈالا کہ جہاں یہ لوگ بیٹھتے تھے وہیں اُن مجالس میں انہیں نصب کردو(یعنی قرینے سے انہیں کھڑاکردو)اور جو ان کے نام(زندگی میں)تھے وہی نام رکھ دو،تو لوگوں نے(جہالت سے)ایساہی کیا۔پھر کچھ عرصہ ان کی عبادت نہ ہوئی،یہاں تك کہ جب وہ تعظیم کرنے والے مرگئے اور علم مٹ گیا(اور ہرطرف جہالت پھیل گئی)توپھر ان کی عبادت شروع ہوگئی۔(ت) |
عبدبن حمیداپنی تفسیرمیں ابوجعفر بن المہلب سے راوی:
|
قال کان ود رجلا مسلمًا وکان محببا فی قومہ فلما مات عسکروا حول قبرہ فی ارض بابل وجزعوا علیہ فلما رأی |
ابوجعفرنے فرمایا:"ود"ایك مسلمان شخص تھا جو اپنی قوم میں ایك پسندیدہ اور محبوب شخص تھا جب وہ مرگیا توسرزمین بابل میں لوگ اس کی قبرکے آس پاس جمع ہوئے اور اس کی جدائی پر |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع