30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
رواہ الائمۃ احمدوالبخاری[1] ومسلم والنسائی عن اُمّ المؤمنین رضی اﷲ تعالٰی عنھا عبارات ردالمحتار حالا گذشت وہمدر انست علّۃ حرمۃ التصویر المضاھاۃ لخلق اﷲ تعالٰی وھی موجودۃ فی کل ماذکر[2] ایں حکم تصویرگری وصورت کشی ست اما تصویر پیش خود یادرخانہ نگاہداشتن ایں جا تفصیل ست تحریم ومنع اورابچند شرط مشروط کردہ اند کہ اگرھمہ بہم آید نگاہداشتن ناروا باشد ورنہ جائز،یکے آنکہ صورت جاندار بحالت جانداری باشد نہ چنانکہ بدیدن نفس صورت بیجان بودنش پیدابود چنانکہ تصویرچہرہ بخلاف آنکہ دست یاپائے چشم یابینی یاگوش ندارد کہ عدم اینہا موجب خروج ازاعضائے ظاھریہ ازسرنساختہ اند یاساختہ راقطع یا محونمودہ اندنگاہداشتنش روا باشد۔دوم آنکہ تصویر درنہایت صغروباریکی نباشد بحدیکہ اگربرزمین نہادہ استادہ ببیند |
مشابہت کرتے رہے۔ائمہ کرام مثلًا حضرت امام احمد، بخاری،مسلم اور نسائی نے اس کو ام المومنین رضی اﷲ تعالٰی عنہا سے روایت کیاہے،ابھی ردالمحتار کی عبارات گزری ہیں اور اسی میں یہ بھی ہے کہ تصویر کے حرام ہونے کی علت تخلیق الٰہی سے مشابہت ہے،اور یہ علت تمام مذکورہ صورتوں میں موجود ہے اور یہ حکم تصویر سازی اورتصویرکشی کے بارے میں ہے۔تصویراپنے سامنے اورروبرو رکھنے اور اپنے گھرمیں محفوظ کرنے وغیرہ کے بارے میں کچھ تفصیل ہے۔تصویر کے حرام ہونے کو اہل علم حضرات نے چندشرائط کے ساتھ مشروط کیاہے اگر سب جمع ہوں تو پھر اس کاحفاظت سے رکھنا ناجائزہے ورنہ جائز۔(۱)زندہ چیز کی تصویر اس کی زندگی کی حالت میں ہو،نہ اس طرح کہ صرف صورت دیکھنے سے اس کا بے جان ہوناظاہر ہوجائے،جیسا کہ چہرہ کی تصویر بخلاف ہاتھ پاؤں،آنکھ ناك یا کان نہ رکھتی ہو کہ ان کا نہ ہونا اعضائے ظاہری سے نکلنے کا سبب ہے کہ سر کے ساتھ یہ نہیں بنائے گئے یابنائے گئے مگرانہیں کاٹ دیاگیا ایسی تصویرکو بحفاظت رکھناجائزہے۔(۲)دوسری شرط:تصویرانتہائی چھوٹی اور باریك نہ ہو۔اگرزمین پر |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع