30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
جابجادریں امرمعارضہ ومباحثہ بوقوع رسیدہ بعضے می گویند کہ مطلق تصویر ممنوع ست وبعضے میگویند کہ تصویرے کہ مثل سایہ برکاغذ یابردیوار کشیدہ شدہ باشد ودستی نباشد وسطح نیزہموار باشدآں تصویرکشیدن وباخودداشتن جائزست وانچہ جسم می دارد وازہیزم وآہن ساختہ باشد کہ سطح آں ہموار نباشد جائزنباشد ونگاہ داشتن آں نیزممنوع غیرمشروع ست۔ بیّنواتوجروا۔ |
یامقید تصویریں یعنی کامل یاناقص،عکسی یادستی ممنوع ہیں یا نہیں؟ جگہ جگہ تصاویرسازی کے متعلق مقابلے،ان کی نمائش اورمباحثوں تك نوبت پہنچ چکی ہے بعض لوگوں کا خیال ہے کہ بلاقید مطلق تصویرمنع ہے جبکہ بعض کہتے ہیں کہ جو تصویر سایہ کی طرح کاغذ یادیوار پر بنائی گئی ہو اور ہاتھ سے بنی ہوئی نہ ہو اور اس کی سطح بھی ہمواراوربرابر ہو ایسی تصویر کھینچنا اور اپنے پاس رکھنا جائزہے لیکن وہ تصویر جوجسم رکھتی ہو مٹی،لکڑی یالوہے سے بنائی گئی ہو اس کی سطح ہموار اور برابرنہ ہو وہ جائزنہیں پس اس کا محفوظ رکھنا ممنوع اور ناجائزہے۔بیان فرماؤاجرپاؤ(ت) |
الجواب:
|
صورت گری مطلقًا حرام ست سایہ دارباشد یابے سایہ دستی باشد یاعکس،درزمان برکت نشان سیدالانس والجان صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ہردوگانہ تصویرمے ساختند ہم بجسم وہم مسطح و دراحادیث ازمطلق صورت گری نہی اکیدوبرصنعت او وعیدشدید بے تخصیص وتقیید ورود یافت پس جمیع اقسام او زیرمنع درآمد تصویربے سایہ را رواداشتن مذہب بعض روافض ست وبس، ام المومنین صدیقہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا و ساوہ باتصویر خریدسیدالمرسلین صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ملاحظہ فرمود درون خانہ قدم مبارك نہ نہاد ام المومنین چوں اثر خشم وملال درچہرہ باجمال محبوب ذی الجلال صلی اﷲ تعالٰی علیہ |
کسی جاندار کی تصویربنانابغیرکسی قید اورشرط کے حرام ہے خواہ سایہ دارہو یا بے سایہ خواہ ہاتھ کی بنی ہوئی ہو یامحض عکس ہو۔ آقائے انس وجان صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے زمانہ بابرکت میں لوگ دونوں قسم کی تصاویر بنایاکرتے تھے جومجسمات کی صورت میں یامحض عکس اور سایہ کی صورت میں ہوتی تھیں چنانچہ احادیث میں مطلق تصویر سازی پرنہی اوربغیرکسی تخصیص وتقیید کے سخت وعیدوارد ہوئی ہے لہٰذا تصویر کی تمام اقسام ممانعت میں داخل ہیں،اور بے سایہ تصویر کو جائز قرار دینا صرف بعض روافض کامذہب ہے چنانچہ ام المومنین سیدہ صدیقہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا ایك دفعہ تصویر والاتکیہ خرید لائیں اور سیدالانبیاء صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع