30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مسئلہ ۲۳۳: مسئولہ حافظ عبدالمجیدصاحب ازقصبہ تحصیل سوارخاص علاقہ ریاست رامپور بروزسہ شنبہ ۱۰ ربیع الثانی ۱۳۳۴ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ شاہ مولانا عبدالحق صاحب اور اصحاب کہف کا جو توشہ ہوتاہے اس میں حقہ پینے والوں کو اگر شریك کرلیاجائے تو کیاقباحت لازم آئے گی اور حقہ پیناشرع شریف میں کیاحکم رکھتاہے؟
الجواب:
حُقّے تین قسم ہیں،ایك وہ جس طرح جہّال رمضان شریف میں افطار کے وقت دم لگاتے ہیں جس سے آنکھیں چڑھ جاتی ہیں حواس متغیر ہوجاتے ہیں وہ حرام ہے،حدیث میں ہے:
|
نھٰی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم عن مسکر ومفتر[1]۔ |
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے ہرنشہ آور اورجسم میں سستی پیدا کرنے والی چیزکے استعمال سے منع فرمایا ہے۔(ت) |
دوسرا وہ جسے بے احتیاط لوگ پیتے ہیں جن کے تازہ ہونے کااہتمام نہ ہو اور تمباکو کثیف وبدبو ہو وہ مکروہ تنزیہی وخلاف اولٰی ہے جیسے کچا لہسن اور کچی پیاز،درمختار میں ہے:
|
الحاقا بالثوم والبصل[2]۔ |
اس کو کچے لہسن اور پیاز کے ساتھ الحاق کیاگیا لہٰذا دونوں کا ایك حکم رکھاگیا(ت) |
تیسرا وہ کہ اسے بدبو سے بچایاجائے اور کسی منکر شرعی پرمشتمل نہ ہو وہ مباح خالص ہے،
|
قال اﷲ تعالٰی: " خَلَقَ لَکُمۡ مَّا فِی الۡاَرْضِ جَمِیۡعًا ٭ "[3]۔ |
(وہی اﷲ تعالٰی ہے کہ)جس نے تمہارے لئے وہ سب کچھ پیدا فرمایا جو زمین میں موجود ہے۔(ت) |
توشہ اصحاب کہف میں حقہ نہ پینے کی کوئی شرط نہیں البتہ توشہ حضرت شاہ عبدالحق ردولوی قدس سرہ العزیز میں یونہی معمول ہے کہ حقہ پینے والے کو نہ دیاجائے اس میں کوئی حرج نہیں،
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع