30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
اھل البغی لیس بشیئ لان النقل الصحیح عن رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ینفی ذٰلك [1]اھ وتمامہ فیہ اقول: لیس فیہ زیادۃ علی ھذا بل ذکر روایتین بیانا لقولہ قداختلف الروایات لکن فی المرقاۃ عن شرح السنۃ للامام البغوی تحت حدیث الصحیحین عن ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما قال اتخذ النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم خاتما من ذھب وجعلہ فی یدہ الیمنی ثم القاہ الحدیث،ھذا الحدیث یشتمل علٰی امرین تبدل الامر فیہما من بعد، احدھما لبس خاتم الذھب،وصارالحکم فیہ ای التحریم فی حق الرجال،وثانیھما لبس الخاتم فی الیمین وکان اٰخرالامرین من النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لبسہ فی الیسار[2]اھ وانما یؤخذ بالاٰخر فالاٰخر من فعلہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم۔واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
قہستانی کے علاوہ دوسرے اہل علم سے بھی منقول ہے،لہٰذا اس کی شرح"ش"میں جوکچھ کہاگیا اس کا دفاع ہوگیاہے۔اور پھر اس کے بعد درمختار میں ہے اقول:(میں مصنف درمختار) کہتاہوں)شاید یہ زمانہ سابقہ میں شعارِ روافض تھا لہٰذا اب ان کاشعارنہیں رہا(لہٰذا غور سے دیکھئے اور سوچئے)ش(شارح) نے فرمایا یعنی دائیں ہاتھ میں انگوٹھی پہننا گزشتہ زمانے میں رافضیوں کا شعارتھا اور وہ ختم ہوگیاہے لہٰذا اب وجہ اشتباہ زائل ہوجانے کی بنا پرممانعت نہ رہی۔اور غایۃ البیان میں ہے کہ فقیہ ابواللیث سمرقندی رحمۃ اﷲ علیہ نے شرح جامع صغیر میں دائیں اور بائیں ہاتھ میں انگوٹھی پہننے کویکساں طورپرجائز قراردیاہے،اور یہی حق ہے کیونکہ اس باب میں حضوراکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وآلہٖ وسلم سے مختلف روایات مروی ہیں۔اور بعض کایہ کہنا کہ دائیں ہاتھ میں انگوٹھی پہننا باغیوں کی علامت ہے اپنے اندر کچھ حقیقت اور وزن نہیں رکھتا،کیونکہ حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام سے صحیح طور پر منقول ہونا اس کی نفی کرتا۔عبارت مکمل ہوگئی اور پوری تفصیل اس میں موجود۔اقول:(میں کہتاہوں)اس میں اس سے زائد نہیں،بلکہ موصوف نے دوروایتیں اپنے قول (قد اختلف الروایات)کی وضاحت کے لئے ذکرفرمائیں۔ لیکن شرح مشکوٰۃ ملاعلی قاری میں امام بغوی کی شرح السنۃ کے حوالے سے بخاری اور مسلم کی حدیث جو حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما کی سند سے مروی ہے اس کے ذیل میں |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع