30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
یجعلہ لبطن کفہ فی یدہ الیسری و قیل الیمنی الاانہ من شعار الروافض فیجب التحرز عنہ قہستانی[1] وغیرہ اھ اقول: والجواز فی نفسہ لاینافی وجوب الاحتراز لغیرہ،علی انہ لم یعزہ للقہستانی وحدہ فلعلہ عن غیرہ فاندفع مافی ش ھذا وقال فی الدر بعدہ قلت ولعلہ کان وبان فتبصر[2]قال ش"ای کان ذٰلك من شعارھم فی الزمن السابق ثم انقطع فلاینھی عنہ و فی غایۃ البیان قدسوی الفقیہ ابواللیث فی شرح الجامع الصغیر بین الیمین والیسار وھو الحق لانہ قد اختلف الروایات عن رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فی ذٰلك وقول بعضھم انہ فی الیمین من علامات |
انگوٹھی اپنے بائیں ہاتھ میں اس طرح پہنے کہ اس کا نگینہ ہاتھ کی اندرونی سطح کی طرف ہو۔اور یہ بھی کہاگیا کہ دائیں ہاتھ میں پہنے۔مگریہ رویہ رافضیوں کاشعار(علامت) ہے۔ لہٰذا اس سے اجتناب ضروری ہے،قہستانی وغیرہ اھ۔اقول: (میں کہتاہوں کہ)کسی چیز کابذاتہٖ جواز،احتراز لغیرہٖ کے وجوب کے منافی نہیں۔(وضاحت:ایك چیز بالذات جائزہے لیکن کسی اورچیز کی بناء پرقابل ترك ہے تو ان دونوں باتوں میں کوئی تضاد نہیں،لہذایہ نہ کہاجائے گا کہ یہ کیسے ہوسکتاہے کہ ایك چیز جائزبھی ہو اور منع بھی ہو،اس لئے کہ یہاں جوازوعدم جواز کی جہات بدل گئیں لہٰذا تناقض نہ پایاجائے گا کیونکہ وجود تناقض کے لئے اتحادجہات ضروری ہے جیسا کہ کتب منطق میں مذکورہے۔یہاں غورکیجئے اصل کے اعتبار سے انگوٹھی دونوں ہاتھوں میں پہننی جائزہے،اس میں کوئی قباحت نہیں لیکن چونکہ روافض دائیں ہاتھ میں انگوٹھی پہنتے ہیں لہٰذا ان کی مشابہت سے بچنے کے لئے دائیں ہاتھ میں انگوٹھی نہ پہنے۔لہٰذا اگر وہ اس معمول کو چھوڑدیں تو پھردائیں ہاتھ میں بھی پہن سکتاہے۔مترجم)اور اس کے علاوہ یہ بھی ہے کہ اس مسئلہ کاانتساب صرف علامہ قہستانی ہی کی طرف نہیں(جیسا کہ ظاہرہے)لہٰذا یہ مسئلہ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع