30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فصح التحریم ثم الاطلاق شمل الاظفار اقول: وفیہ نص الحدیث المار لوکنت امرأۃ لغیرت اظفارك بالحناء[1]اما ثنیا العذر فاقول ھذا اذا لم یقم شیئ مقامہ ولاصلح ترکیبہ مع شیئ ینفی لونہ واستعمل لاعلی وجہ تقع بہ الزینۃ۔ |
گزشتہ حدیث پاك کی وجہ سے کہ جس میں یہ آیا ہے کہ اﷲ تعالٰی نے ان مردوں پرلعنت فرمائی جو عورتوں سے مشابہت اختیار کریں،لہٰذا تحریم یعنی کراہت تحریمی صحیح ہوئی۔اور اطلاق (الفاظ حدیث)ناخنوں کوبھی شامل ہے۔ اقول: (میں کہتا ہوں)اس میں بھی گزشتہ حدیث کی صراحت موجود ہے (حدیث:اگر تُوعورت ہوتی توضرور اپنے سفید ناخنوں کومہندی لگاکرتبدیل کر دیتی)رہاعذر کااستثناء کرنا،تو اس کے متعلق میری صوابدید یہ ہے کہ(عذر اس وقت تسلیم کیاجائے گا کہ)جب مہندی کے قائم مقام کوئی دوسری چیزنہ ہو،نیز مہندی کسی ایسی دوسری چیز کے ساتھ مخلوط نہ ہوسکے جو اس کے رنگ کوزائل کردے۔اور مہندی استعمال میں بھی محض ضرورت کی بناپر بطور دوااورعلاج ہو،زیب وزینت اور آرائش مقصود نہ ہو۔(ت) |
مسئلہ ۱۲:عورت کو اپنے سرکے بال کترنا حرام ہے اور کترے توملعونہ کہ مردوں سے تشبّہ ہے۔درمختارمیں ہے:
|
قطعت شعر رأسھا اثمت ولعنت والمعنی المؤثر التشبہ بالرجال [2]۔ |
کسی عورت نے سرکے بال کترڈالے تو وہ گنہگارہوئی،نیزاﷲ تعالٰی کی اس پرلعنت برسی۔اور اس میں جو علت مؤثرہ ہے وہ مردوں سے"تشبّہ"ہے۔(ت) |
مسئلہ ۱۳:مرد کو اپنا سرکھلوانا جسے پان بنواناکہتے ہیں حلال ہے جبکہ اطراف کے بال باقی رکھے اور گوندھے نہیں ورنہ پیشانی یاقفا کے بال مونڈنا مجوس سے تشبّہ ہے اور گوندھنا بعض دیگرکفار سے۔ذخیرہ وتاتارخانیہ وہندیہ وردالمحتار میں ہے:
|
لاباس للرجل ان یحلق وسط رأسہ ویرسل شعرہ من غیر ان یفتلہ وان فتلہ فذٰلك مکروہ لانہ یصیر مشابھا ببعض الکفرۃ |
کوئی حرج نہیں کہ مرد اپنے سرکادرمیانی حصہ منڈوائے اور بقیہ بال بغیرگوندھے کھلے چھوڑدے،اوراگراس نے انہیں گوندھ ڈالا توایساکرنا مکروہ ہے کیونکہ اس صورت میں وہ بعض کافروں سے مشابہ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع