30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ثوربن یزید کرھا ذٰلك لانہ تشبہ بالرھبان فقال ابویوسف رحمہ اﷲ تعالٰی کان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم یلبس النعال التی لہا شعور وانھا من لباس الرھبان [1]الخ |
عرض کی لیکن سفیان اورثوربن یزیدتو انہیں پسندنہیں فرماتے کیونکہ ان میں عیسائی راہبوں سے مشابہت پائی جاتی ہے۔امام ابویوسف رحمہ اﷲ تعالٰی نے فرمایا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ایسے جوتے پہنتے تھے جن کے بال ہوتے تھے حالانکہ یہ بھی عیسائی راہبوں کالباس تھا الخ۔(ت) |
اس تحقیق سے روشن ہوگیا کہ تشبُّہ وہی ممنوع ومکروہ ہے جس میں فاعل کی نیت تشبہ کی ہو یاوہ شے ان بدمذہبوں کاشعارخاص یافی نفسہ شرعًا کوئی حرج رکھتی ہو،بغیر ان صورتوں کے ہرگز کوئی وجہ ممانعت نہیں۔اب مسئلہ مسئولہ کی طرف،چلئے دھوتی باندھنے والے مسلمانوں کایہ قصد تو ہرگز نہیں ہوتاکہ وہ کافروں کی سی صورت بنائیں،نہ مدعی نے اس پربنائے کلام کی بلکہ مطلقًا دھوتی باندھنے کو ان سخت شدید اختراعی احکام کاموردقراردیا نہ زنہار قلب پر حکم روا نہ بدگمانی جائز،
|
قال اﷲ تعالٰی" وَ لَا تَقْفُ مَا لَیۡسَ لَکَ بِہٖ عِلْمٌ ؕ اِنَّ السَّمْعَ وَ الْبَصَرَ وَالْفُؤَادَکُلُّ اُولٰٓئِکَ کَانَ عَنْہُ مَسْؤُلًا ﴿۳۶﴾ "[2]۔ |
اﷲ تعالٰی نے ارشاد فرمایا:ان باتوں کے پیچھے نہ پڑو جن کا تمہیں کچھ علم نہیں۔بے شك کان،آنکھ اور دل کے متعلق (بروزقیامت)پوچھاجائے گا۔(ت) |
اور فی نفسہٖ دھوتی کی حالت کودیکھاجائے تو اس کی اپنی ذات میں کوئی حرج شرعی بھی نہیں بلکہ ساتر ماموربہ کے افراد سے ہے اصل سنت ولباس پاك عرب یعنی تہبند سے صرف لٹکتاچھوڑنے اور پیچھے گھرس لینے کافرق رکھتی ہے اس میں کسی امرشرعی کا خلاف نہیں تو دووجہ ممانعت توقطعًا منتفی ہیں۔رہا خاص شعارکفارہونا،وہ بھی باطل۔بنگالہ وغیرہ پورب کے عام شہروں میں تمام سکان ہندومسلمان سب کایہی لباس ہے۔یوہیں سب اضلاع ہند کے دیہات میں ہندومسلمین یہی وضع رکھتے ہیں۔رہے وسط ہند کے شہری لوگ،ان میں بھی فنائے شہر اور خود شہر کے اہل حرفہ وغیرہم جنہیں کم قوم کہاجاتاہے بعض ہروقت اور بعض اپنے کاموں ضرورتوں کی حالت میں دھوتی باندھتے ہیں۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع