30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
البدعۃ المباحۃ[1]۔ |
میں ذکرفرمایاہے۔(ت) |
امام اجل فقیہ النفس فخرالملۃ والدین قاضی خاں پھر امام محمدمحمدمحمد ابن الحاج حلبی حلیہ شرح منیہ فصل مکروہات الصلوٰۃ پھر علامہ زین بن نجیم مصری بحرالرائق پھر علامہ محمد بن علی دمشقی درمختارمیں فرماتے ہیں:
|
التشبہ باھل الکتاب لایکرہ فی کل شیئ فانا ناکل ونشرب کما یفعلون ان الحرام التشبہ بھم فیما کان مذموما اوفیما یقصد بہ التشبہ[2]۔ |
ہرچیز میں اہل کتاب سے مشابہت مکروہ نہیں جیسے کھانے پینے وغیرہ کے طورطریقے میں کوئی کراہت نہیں۔ان سے تشبہ ان کاموں میں حرام ہے جومذموم یعنی برے ہیں یاجن میں مشابہت کاارادہ کیاجائے۔(ت) |
علامہ علی قاری منح الروض میں فرماتے ہیں:
|
اناممنوعون من التشبیہ بالکفرۃ واھل البدعۃ المنکرۃ فی شعارھم لامنھیون عن کل بدعۃ ولوکانت مباحۃ سواء کانت من افعال اھل السنۃ اومن افعال الکفر واھل البدعۃ فالمدار علی الشعار[3]۔ |
ہمیں کافروں اورمنکر بدعات کے مرتکب لوگوں کے شعار کی مشابہت سے منع کیاگیاہے ہاں اگر وہ بدعت جو مباح کادرجہ رکھتی ہو اس سے نہیں روکاگیا خواہ وہ اہل سنت کے افعال ہوں یاکفار اوراہل بدعت کے۔لہٰذا مدارِکارشعار ہونے پرہے۔ (ت) |
فتاوٰی عالمگیری میں محیط سے ہے:
|
قال ھشام فی نوادرہ ورأیت علی ابی یوسف رحمہ اﷲ تعالٰی نعلین محفوفین بمسامیر الحدید فقلت لہ اتری بھٰذا الحدید بأسا قال لافقلت لہ ان سفین و |
ہشام نے نوادر میں فرمایا میں نے امام ابویوسف رحمہ اﷲ تعالٰی کوایسے جوتے پہنے ہوئے دیکھا جن کے چاروں طرف لوہے کی کیلیں لگی ہوئی تھیں،میں نے عرض کی،کیاآپ اس لوہے سے کوئی حرج سمجھتے ہیں؟ توفرمایا کہ نہیں،میں نے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع