30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سوم: نہ تو انہیں اچھاجانتا ہے نہ کوئی ضرورت شرعیہ اس پرحامل ہے بلکہ کسی نفع دنیوی کے لئے یایوہیں بطورہزل واستہزاء اس کامرتکب ہوا توحرام وممنوع ہونے میں شك نہیں اور اگروہ وضع ان کفارکامذہبی دینی شعارہے جیسے زنّار،قشقہ،چُٹیا، چلیپا،تو علماء نے اس صورت میں بھی حکم کفر دیا کماسمعت اٰنفا(جیسا کہ تم نے ابھی سنا۔ت)اور فی الواقع صورت استہزاء میں حکم کفر ظاہرہے کمالایخفی(جیساکہ پوشیدہ نہیں۔ت)اور لزومی میں بھی حکم ممانعت ہے جبکہ اکراہ وغیرہ مجبوریاں نہ ہوں جیسے انگریڑی منڈا،انگریزی ٹوپی،جاکٹ،پتلون،اُلٹاپردہ،اگرچہ یہ چیزیں کفار کی مذہبی نہیں مگرآخرشعار ہیں تو ان سے بچنا واجب اور ارتکاب گناہ۔ولہٰذا علماء نے فسّاق کی وضع کے کپڑے موزے سے ممانعت فرمائی۔فتاوٰی خانیہ میں ہے:
|
الاسکاف اوالخیاط اذا استوجر علی خیاطۃ شیئ من زی الفساق ویعطی لہ فی ذٰلك کثیراجر لایستحب لہ ان یعمل لانہ اعانۃ علی المعصیۃ[1]۔ |
موچی یادرزی فسّاق وفجّار کی وضع کے مطابق معمول سے زیادہ اُجرت پرلباس تیارکرے تو اس کے لئے یہ کام مستحب نہیں اس لئے کہ یہ گناہ پر امداد واعانت ہے۔(ت) |
مگر اس کے تحقق کو اس زمان ومکان میں ان کاشعار خاص ہونا قطعًا ضرور جس سے وہ پہچانے جاتے ہوں اور ان میں اور ان کے غیر میں مشترك نہ ہو ورنہ لزوم کا کیا محل،ہاں وہ بات فی نفسہٖ شرعًا مذموم ہوئی تو اس وجہ سے ممنوع یامکروہ رہے گی نہ کہ تشبّہ کی راہ سے،امام قسطلانی نے مواہب لدنیہ میں دربارہ طیلسان کہ پوشش یہود تھی فرماتے ہیں:
|
اما ماذکرہ ابن اقیم من قصۃ الیہود فقال الحافظ ابن حجر انما یصح الاستدلال بہ فی الوقت الذی تکون الطیالسۃ من شعارھم وقد ارتفع ذٰلك فی ھذہ الازمنۃ فصار داخلا فی عموم المباح وقد ذکرہ ابن عبدالسلام رحمہ اﷲ تعالٰی فی امثلۃ |
رہایہ کہ جوکچھ حافظ ابن قیم نے یہودیوں کاواقعہ بیان کیاہے تو اس بارے میں حافظ ابن حجر نے فرمایا کہ یہ استدلال اس وقت درست تھا جبکہ مذکورہ چادر اُن کا(مذہبی)شعار ہواکرتی تھی لیکن اس دَور میں یہ چیز ختم ہورہی ہے لہٰذا اب یہ عموم مباح میں داخل ہے،چنانچہ علامہ ابن عبدالسلام رحمۃ اﷲ علیہ نے اس کو بدعت مباح کی مثالوں |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع