30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
الجواب :
اقول:وباﷲ التوفیق(میں اﷲتعالٰی کی توفیق ہی سے کہتاہوں۔ت)اس جنس مسائل میں حق تحقیق وتحقیق حق یہ ہے کہ تشبہ دو وجہ پرہے:التزامی ولزومی۔التزامی یہ ہے کہ یہ شخص کسی قوم کے طرزووضع خاص اسی قصد سے اختیارکرے کہ ان کی سی صورت بنائے ان سے مشابہت حاصل کرے حقیقۃً تشبہ اسی کانام ہے فان معنی القصد والتکلف ملحوظ فیہ کمالایخفی(اس لئے کہ قصداورتکلف کے مفہوم کااس میں لحاظ رکھاگیاہے جیساکہ پوشیدہ نہیں۔ت)اور لزومی یہ کہ اس کاقصد تومشابہت کانہیں مگروہ وضع اس قوم کاشعارخاص ہورہی ہے کہ خواہی نخواہی مشابہت پیداہوگی،التزامی میں قصد کی تین صورتیں ہیں:
اوّل: یہ کہ اس قوم کومحبوب ومرضی جان کر اُن سے مشابہت پسند کرے یہ بات اگرمبتدع کے ساتھ ہو بدعت اور کفّار کے ساتھ معاذاﷲ کفر،حدیث من تشبہ بقوم فہو منھم[1]جو کسی قوم سے مشابہت اختیارکرے تو وہ انہی میں سے شمارہوگا۔ ت)حقیقۃً صرف اسی صورت سے خاص ہے۔غمزالعیون والبصائر میں ہے:
|
اتفق مشائخنا ان من رأی امرالکفار حسنا فقد کفر حتّٰی قالوا فی رجل قال ترك الکلام عند اکل الطعام حسن من المجوس اوترك المضاجعۃ عندھم حال الحیض حسن فہوکافر[2]۔ |
ہمارے مشائخ کرام کاا س پر اتفاق ہے کہ جو کوئی کافروں کے کسی کام کواچھا سمجھے تو وہ بلاشبہہ کافرہوجاتاہے یہاں تك کہ انہوں نے فرمایا کہ جوکوئی کھانا کھاتے وقت باتیں نہ کرنے کو اور حالت حیض میں عورت کے پاس نہ لیٹنے کو مجوسیوں اور آتش پرستوں کی اچھی عادت کہے تو وہ کافرہے۔(ت) |
دوم: کسی غرض مقبول کی ضرورت سے اسے اختیارکرے وہاں اس وضع کی شناعت اور اس غرض کی ضرورت کاموازنہ ہوگا اگرضرورت غالب ہوتو بقدرضرورت کاوقت ضرورت یہ تشبیہ کفرکیا معنی ممنوع بھی نہ ہوگا جس طرح صحابہ کرام رضی اﷲ تعالٰی عنہم سے مروی کہ بعض فتوحات میں منقول رومیوں کے لباس پہن کر بھیس بدل کر کام فرمایا او ر اس ذریعہ سے کفار اشرار کی بھاری جماعتوں پرباذن اﷲ غلبہ پایا اسی طرح سلطان مرحوم صلاح الدین یوسف اناراﷲ تعالٰی برہانہ کے زمانے میں جبکہ تمام کفار یورپ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع