30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سوال ہشتم:
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ تعزیہ بنانا اور اس پرنذرنیاز کرناعرائض بامید حاجت براری لٹکانا اور بہ نیت بدعت حسنہ اس کو داخل حسنات جاننا او رموافق شریعت ان امور کو اور جوکچھ اس سے پیدا اور یا متعلق ہوں کتناگناہ ہے،اورزید اگر ان باتوں کوجو فی زماننا متعلق تعزیہ داری وعلم داری کے ہیں موافق مذہب اہل سنت کے تصورکرے تو وہ کس قسم کے مرتکب ہوااور اس پرشرع کی تعزیرکیالازم آتی ہے،اور ان امور کے ارتکاب سے وہ شرك خفی یا جلی میں مبتلا ہے یا نہیں،او ر اس کی زوجہ اس کے نکاح سے باہر ہوئی یانہیں،درصورتیکہ وہ امور متذکرہ بالا کو داخل عقیدت اہلسنت وجماعت بنظر ثواب عمل میں لاتاہو۔بیّنواتوجروا۔
الجواب:
افعال مذکورہ جس طرح عوام زمانہ میں رائج ہیں بدعت سیئہ وممنوع وناجائزہیں انہیں داخل ثواب جاننا اور موافق شریعت مذہب اہلسنت ماننا اس سے سخت تروخطائے عقیدہ وجہل اشد ہے،شرعی تعزیر حاکم شرع سلطان کی رائے پرمفوض ہے باایں ہمہ وہ شرك وکفرہرگز نہیں،نہ اس بناء پرعورت نکاح سے باہرہو،عرائض بامید حاجت براری لٹکانا محض بہ نیت توسل ہے جو اس کاجہل ہے کہ امورممنوعہ لائق توسل نہیں ہوتے باقی حاجت روا بالذات کوئی کلمہ گوحضرت امام عالی مقام رضی اﷲ تعالٰی عنہ کوبھی نہیں جانتا کہ معاذاﷲ تعالٰی شرك ہو،یہ وہابیہ کاجہل وضلال ہے،واﷲ تعالٰی اعلم فقط
__________________
رسالہ
اعالی الافادۃ فی تعزیۃ الھند وبیان شہادۃ
ختم ہوا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع