30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(۱)ایك شخص کہتاہے کہ میں تعزیہ کاچڑھاہوا نہیں کھاتاہوں حضرت امام حسین(رضی اﷲ تعالٰی عنہ)کی نیاز کاکھاتاہوں۔
(۲)ایك شخص کہتاہے تعزیہ پرکیامنحصرہے چڑھونا کوئی ہومیں نہیں کھاتا ہوں نیازکھاتا ہوں۔
(۳)ایك شخص کہتاہے کہ عشرہ محرم الحرام میں جوکچھ کھانے پینے وغیرہ میں ہوتاہے دس روزتك تعزیہ کاچڑھاہوتاہے۔
(۴)ایك شخص کہتاہے تعزیہ بُت ہے بہ سبب لگانے صورت کے۔
(۵)ایك شخص کہتاہے کہ یہ صورت وہ ہے جوبُراق اور حُورِ جنت میں ہیں۔
(۶)ایك شخص کہتاہے کہ تعزیہ اور مسجد میں کچھ فرق نہیں بلکہ کہتاہے کہ مسجدمیں کیاہے وہ اینٹ گارا ہی تو ہے جووہاں سجدے کرتے ہو اور تعزیہ میں ابرق کاکاغذ وغیرہ ہیں۔
(۷)ایك شخص نے کہا کہ بھائی یہ باتیں شرع کی ہیں لکھ کر شرع کے سپرد کرو،آپس میں جھگڑامت کرو۔
(۸)ایك شخص کہتاہے کہ تم شرع نہیں سمجھتے۔
(۹)ایك شخص نے کہاکہ جس حالت میں تم شرع کونہیں سمجھتے ہو تو میں تعزیہ کے چڑھونے کوحرام سمجھتاہوں۔
الجواب:
(۱)پہلاشخص اچھی بات کہتاہے واقعی حضرت امام کے نام کی نیاز کھانی چاہئے اورتعزیہ کاچڑھاہواکھانانہ چاہئے،اگر اس کے قول کایہ مطلب ہے کہ وہ تعزیہ کاچڑھاہوا اس نیت سے نہیں کھاتا کہ وہ تعزیہ کاچڑھاہواہے بلکہ اس نیت سے کھاتاہے کہ وہ امام کی نیازہے تو یہ غلط اور بیہودہ ہے،تعزیہ پرچڑھانے سے حضرت امام حسین رضی اﷲ تعالٰی عنہ کی نیازنہیں ہوجاتی،اور اگرنیاز دے کرچڑھائیں یاچڑھاکرنیاز دلائیں تو اس کے کھانے سے احتراز چاہئے اور وہ نیت کاتفرقہ اس کے مفسدہ کودفع نہ کرے گا،مفسدہ اس میں ہے کہ اس کے کھانے سے جاہلوں کی نظرمیں ایك امرناجائز کی وقعت بڑھانی یاکم ازکم اپنے آپ کو اس کے اعتقاد سے متہم کرتاہے،اور دونوں باتیں شنیع ومذموم ہیں لہٰذا اس کے کھانے پینے سے احتراز چاہئے۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
(۲)دوسرے شخص کی بات میں ذرا زیادتی ہے اولیاء کرام کے مزارات پرجوشیرینی کھانا بہ نیت تصدق لے جاتے ہیں اسے بھی بعض لوگ چڑھونا کہتے ہیں اس کے کھانے میں فقیر کو اصلًا حرج نہیں۔
(۳)تیسرے شخص نے نیاز اور تعزیہ کے چڑھاوے میں فرق نہ کیایہ غلط ہے چڑھونا وہی ہے جو تعزیہ پریا اس کے پاس لے جاکر سب کے سامنے نذرتعزیہ کی نیت سے رکھاجائے باقی سب کھانے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع