30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کتب شہادت جو آج کل رائج ہیں اکثر حکایات موضوعہ وروایات باطلہ پرمشتمل ہیں،یوہیں مرثیے ایسی چیزوں کاپڑھنا سننا سب گناہ وحرام ہے۔حدیث میں ہے:
|
نھٰی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم عن المراثی۔ رواہ ابوداؤد [1]والحاکم عن عبداﷲ بن ابی اوفٰی رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔ |
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے مرثیوں سے منع فرمایا (اسے ابوداؤد اور حاکم نے عبداﷲ بن ابی اوفٰی رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔ت) |
ایسے ہی ذکر شہادت کو امام حجۃ الاسلام وغیرہ علمائے کرام منع فرماتے ہیں کما ذکرہ امام ابن حجر المکی فی الصواعق المحرقۃ(جیسا کہ امام ابن حجر مکی نے صواعق محرقہ میں اسے روایت کیاہے۔ت)ہاں اگرصحیح روایات بیان کی جائیں اور کوئی کلمہ کسی نبی یاملك یااہلبیت یاصحابی کی توہین شان کامبالغہ مدح وغیرہ میں مذکورنہ ہو،نہ وہاں بَین یانوحہ یاسینہ کوبی یا گریبان دری یا ماتم یاتصنّع یاتجدید غم وغیرہ ممنوعات شرعیہ نہ ہوں توذکر شریف فضائل ومناقب حضرت سیدنا امام حسین رضی اﷲ تعالٰی عنہ کابلاشبہہ موجب ثواب ونزول رحمت ہے عند ذکر الصالحین تنزل الرحمۃ[2] (صالحین کے ذکر پر رحمت الٰہیہ نازل ہوتی ہے۔ت)ولہٰذا امام ابن حجر مکی بعد بیان مذکور کے فرماتے ہیں:
|
ماذکر من حرمۃ روایۃ قتل الحسین ومابعدہ لا ینافی ماذکرتہ فی ھذا الکتاب لان ھٰذا البیان الحق الذی یحب اعتقادہ من جلالۃ الصحابۃ وبرائتھم من کل نقص،بخلاف مایفعلہ الوعاظ الجہلۃ،فانھم یأتون بالاخبار الکاذبۃ الموضوعۃ ونحوھا ولایبینون |
شہادت حسین رضی اﷲتعالٰی عنہ کے بیان کی حُرمت اور اس کے بعد جوکچھ ذکرکیاوہ میری اس کتاب میں ذکرکردہ روایات کے منافی نہیں ہے کیونکہ یہ صحابہ کرام کی جلالت اورہرنقص سے ان کی برأت پرمشتمل حق کابیان ہے بخلاف جاہل واعظین کے کہ وہ جھوٹ اورموضوع قسم کی خبریں سناتے ہیں اورصحیح محمل اور قابل اعتقاد |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع