30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہیں،"اس قدرجائزہے"سے کوئی تعلق نہ رہا،نہ اس کے وجود سے موجود ہوتی ہے نہ اس کے عدم سے معدوم،تویہ فی نفسہٖ نا جائزوحرام ہے۔اس کی نظیر امم سابقہ میں آغاز اصنام ہے،وَد وسواع ویغوث ویعوق ونسرصالحین تھے ان کے انتقال پراُن کی یاد کے لئے ان کی صورتیں تراشیں،بعد مرورزماں پچھلی نسلوں نے انہیں کو معبود سمجھ لیا توکوئی نہیں کہہ سکتا کہ ان بتوں کی حالت اپنی انہیں ابتدائی حقیقت پرباقی تھی یہ شنائع زوائد عوارض خارجہ تھے،ولہٰذا شرائع الٰہیہ مطلقًا ان کے رَدّوانکار پرنازل ہوئیں،بخاری وغیرہ حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے راوی:
|
کانوا اسماء رجال صالحین من قوم نوح فلما ھلکوا اوحی الشیطٰن الٰی قومھم ان انصبوا الٰی مجالسیھم التی کانوا یجلسون انصابا وسمّوھا باسمائھم ففعلوا فلم تعبد حتی اذا ھلك اولٰئك ونسخ العلم عبدت[1]۔ |
وَد،سواع وغیرہ قوم نوح علیہ السلام کے نیك لوگوں کے نام تھے جب وہ وفات پاگئے توشیطان نے ان کی قوم کے دلوں میں یہ وسوسہ ڈالا کہ ان کی مجلسوں میں جہاں وہ بیٹھاکرتے تھے ان کے مجسمے بناکر کھڑے کردو او ر ان کے اسماء کاذکرکرو(یعنی انہیں یادکرو)چنانچہ لوگوں نے ایساہی کیا مگر وہ ان کی عبادت میں مشغول نہیں ہوئے تاآنکہ وہ لوگ دنیا سے رخصت ہوگئے اور علم مٹ گیا اور پچھلے لوگ یعنی بعد میں آنے والی نسل حقیقت سے ناآشناہوتے ہوئے ان کی پوجاکرنے لگی۔ (ت) |
فاکہی عبیداﷲ بن عبیدبن عمیرسے راوی:
|
قال اول ماحدثت الاصنام علی عھد نوح وکانت الابناء تبرالآباء فمات رجل منھم فجزع علیہ ابنہ فجعل لایصبر عنہ فاتخذ مثالاعلٰی صورتہ فکلما اشتاق الیہ نظرہ ثم مات ففعل بہ کما فعل ثم تتابعوا |
عبداﷲ ابن عبید نے کہا سب سے پہلے بت پرستی کاظہورزمانہ نوح میں ہوا،اوربیٹے اپنے آباء سے حسن سلوك کیاکرتے تھے،پھر ان میں سے کوئی شخص مرجاتا تو اس کابیٹا اس کے لئے بیقرار اور بے چین ہوجاتا اور صبرنہ کرسکتااور اپنی تسکین کے لئے اس کی مورتی بنالیتا اور جب اصل کودیکھنے کاشوق ہوتا تو اس شبیہہ کودیکھ کر |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع