دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 24 | فتاوی رضویہ جلد ۲۴

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۲۴

مثل سرالشہادتین وغیرہ پڑھتے ہیں اسے بھی قطعًا شہادت ہی پڑھنا اور مجلس کو مجلس شہادت ہی کہتے ہیں تومعلوم ہواکہ وہ امور نامشروعہ کہ عارض ہوگئے ہنوز عوارض ہی سمجھے جاتے ہیں اور عوارض قبیحہ سے نفس شیئ مباح یاحسن قبیح نہیں ہوجاتی بلکہ وہ اپنی حد ذات میں اپنے حکم اصلی پررہتی اور نہی عوارض قبیحہ کی طرف متوجہ ہوتی ہے جیسے ریشمیں کپڑے پہن کر نمازپڑھنا کہ نفس ذات نماز کومعاذاﷲ قبیح نہ کہیں گے بلکہ ان عوارض وزوائد کو توشہادت ناموں میں ان عوارض کالحوق بعینہٖ ایساہے جیسے آ ج کل بعض جہّال ہندوستان نے مجلس میلادمبارك میں روایات موضوعہ وقصص بے سروپا بلکہ کلمات توہین ملائکہ وانبیاء علیہم الصلوٰۃ والثناء پڑھنا اختیارکیاہے،اس سے حقیقت مبتدل نہ ہوئی،نہ عوارض نے دائرہ عروض سے آگے قدم رکھا جو مجالس طیبہ طاہرہوتی ہیں انہیں بھی قطعًا مجالس میلادمبارك ہی کہاجاتاہے اور ہرگز کسی کو یہ گمان نہیں ہوتا کہ یہ کوئی دوسری شیئ ہے جو ان مجالس سے حقیقت وجداگانہ رکھتی ہے،بخلاف تعزیہ داری کہ اس کا آغاز اگرچہ یوں ہی سناگیاہے کہ سلطان تیمور نے ازانجاکہ ہرسال حاضری روضہ مقدسہ حضورسیدالشہداء شہزادہ گلگوں قبا علٰی جدہ الکریم علیہ اصلوٰۃ والثناء کومخل امورسلطنت دیکھا تو بنظرشوق وتبرك تمثال روضہ مبارك بنوائی اور اس قدر میں کوئی حرج شرعی نہ تھا مگر یہ امرحقیقت متعارفہ سے وجودًا وعدمًا بالکل بے علاقہ ہے اگرکوئی شخص روضہ انورمدینہ منورہ وکعبہ معظمہ کے نقشوں کی طرح کاغذ پرتمثال روضہ حضرت سید الشہداء آئینہ میں لگاکررکھے ہرگز نہ اسے تعزیہ کہیں گے نہ اس شخص کو تعزیہ دار،حالانکہ اُتنا امرقطعًا موجودہے اور یہ ہر سال نئی نئی تراش وخراش کی کھپچی پنّیاں،کسی میں براق،کسی میں پریاں،جوگلی کوچے گشت کرائی جاتی ہیں، ہرگز تمثال روضہ مبارك حضرت سیدالشہداء نہیں کہ تمثال ہوتی تو ایك طرح کی نہ کہ صدہا مختلف،انہیں ضرورتعزیہ اور ان کے مرتکب کوتعزیہ دارکہاجاتاہے تو بداہۃً ظاہر کہ حقیقت تعزیہ داری انہیں امورنامشروعہ کانام ٹھہراہے نہ کہ نفس حقیقت عرفیہ وہی امر جائزہو اور یہ نامشروعات امور زوائدوعوارض مفارقہ سمجھے جاتے ہوں،ولہٰذا فقیر نے اپنے فتاوے میں قدرمباح کوذکرکرکے کہا کہ جہال بیخردنے اس اصل جائزکوبالکل نیست ونابود کرکے الخ،اور آخر میں کہا اب کہ تعزیہ داری اس طریقہ نامرضیہ کا نام ہے قطعًا بدعت وناجائزوحرام ہے۔یہ اُسی فرق جلیل ونفیس کی طرف اشارہ تھا جو اس مقدمہ ممہدہ میں گزرا۔

بالجملہ شہادت نامے کی حقیقت ہنوزوہی امرمباح ومحمود ہے اور شنائع زوائدوعوارض اگر ان سے خالی اور نیت نامحمود سے پاك ہوضرورمباح ہے اور تعزیہ داری کی حقیقت ہی یہ امورناجائزہ


 

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن