30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
یونہی جبکہ اس سے مقصود غم پروری وتصنع وحُزن ہوتو یہ نیت بھی شرعًا نامحمود،شرع مطہر نے غم میں صبروتسلیم اورغم موجود کو حتی المقدور دل سے دورکرنے کاحکم دیا ہے نہ کہ غم معدوم بتکلف وزور لانا نہ کہ بتصنع وزوربنانا،نہ کہ اسے باعث قرب و ثواب ٹھہرانا،یہ سب بدعات شنیعہ روافض ہیں جن سے سنی کو احتراز لازم،حاشاﷲ اس میں کوئی خوبی ہوتی توحضور پر نور سیدعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی وفات اقدس کی غم پروری سب سے زیادہ اہم وضروری ہوتی،دیکھو حضوراقدس صلوات اﷲ وسلامہ علیہ وعلٰی آلہٖ کاماہ ولادت وماہ وفات وہی ماہ مبارك ربیع الاول شریف ہے پھرعلمائے امت وحامیان سنت نے اسے ماتم وفات نہ ٹھہرایا بلکہ موسم شادی ولادت اقدس بنایا، امام ممدوح کتاب موصوف میں فرماتے ہیں:
|
ایاہ ثم ایاہ ان یشغلہ ای یوم العاشوراء ببدع الرافضۃ ونحوھم من الندب والنیاحۃ والحزن اذ لیس ذٰلك من اخلاق المؤمنین والا لکان یوم وفاتہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اولٰی بذٰلك واحرٰی [1]الخ |
بچے اور پرہیزکرے اس بات سے کہ کہیں یوم عاشورہ میں روافض اور ان جیسے لوگوں کی بدعات میں نہ مشغول ہوجائے جو رونا پیٹنا اور غم کرناہوتاہے کیونکہ یہ امور مومنوں کے اخلاق سے نہیں ورنہ حضورصلی اﷲ تعالٰی علیہ وآلہٖ وسلم کایوم وصال ان چیزوں کازیادہ حق رکھتاہے اھ(یعنی اگررونے پیٹنے اور دکھ غم کے مظاہروں کی گنجائش اور اجازت ہوتی تو سب سے زیادہ یہ چیزیں آپ کے یوم وصال پرعمل میں آتیں اور دیکھی جاتیں)۔(ت) |
عوام مجلس خواں اگرچہ بالفرض صرف روایات صحیحہ بروجہ صحیح پڑھیں بھی تاہم جو ان کے حال سے آگاہ ہے خوب جانتاہے کہ ذکرشہادت شریف پڑھنے سے ان کامطلب یہی بہ تصنع رونا بہ تکلف رلانا اور اس رونے رلانے سے رنگ جمانا ہے اس کی شناعت میں کیا شبہہ ہے،ہاں اگرخاص بہ نیت ذکرشریف حضرات اہلبیت طہارت صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم علٰی سیدہم وعلیہم وبارك وسلم ان کے فضائل جلیلہ ومناقب جمیلہ روایات صحیحہ سے بروجہ صحیح بیان کرتے اور اس کے ضمن میں ان کے فضل جلیل صبرجمیل کے اظہار کوذکرشہادت بھی آجاتااورغم پروری وماتم انگیزی کے انداز سے کامل احترازہوتا تو اس میں حرج نہ تھا مگرہیہات ان کے اطوار ان کی عادات اس نیت خیر سے یکسرجداہیں،ذکرفضائل شریف مقصودہوتا تو کیا ان محبوبان خدا کی فضیلت صرف یہی شہادت تھی،بے شمار مناقب عظیم اﷲ عزوجل نے انہیں عطافرمائے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع