30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پڑھناجائزہے یانہیں؟ بیّنواتوجروا۔
الجواب:
شہادت نامے نثریانظم جو آج کل عوام میں رائج ہیں اکثرروایات باطلہ وبے سروپا سے مملو اور اکاذیب موضوعہ پرمشتمل ہیں، ایسے بیان کاپڑھنا سننا وہ شہادت ہو خواہ کچھ،اور مجلس میلاد مبارك میں ہو خواہ کہیں اور،مطلقًا حرام وناجائزہے،خصوصًا جبکہ وہ بیان ایسی خرافات کومتضمن ہو جن سے عوام کے عقائد میں تزلزل واقع ہو کہ پھر تو اور بھی زیادہ زہرقاتل ہے،ایسے ہی وجوہ پر نظرفرماکر امام حجۃ الاسلامی محمد محمد محمدغزالی قدس سرہ العالی وغیرہ ائمہ کرام نے حکم فرمایا کہ شہادت نامہ پڑھناحرام ہے۔علامہ ابن حجرمکی قدس سرہ الملکی صواعق محرقہ میں فرماتے ہیں:
|
قال الغزالی وغیرہ یحرمہ علی الواعظ وغیرہ روایۃ مقتل الحسن والحسین وحکایتہ[1] الخ |
امام غزالی وغیرہ نے فرمایا کہ واعظ کے لئے حرام ہے کہ وہ شہادت حسنین کریمین اور اس کے بے سروپاواقعات لوگوں کو سنائے الخ(ت) |
پھرفرمایا:
|
ماذکرہ من حرمۃ روایۃ قتل الحسین ومابعدہ لاینافی ماذکرتہ فی ھذا الکتاب لان ھذا البیان الحق الذی یجب اعتقادہ من جلالۃ الصحابۃ وبرائتھم من کل نقص بخلاف مایفعلہ الوعاظ الجھلۃ فانھم یأتون بالاخبار الکاذبۃ والموضوعۃ ونحوھا ولا یبیّنون المحامل والحق الذی یجب اعتقادہ[2]الخ۔ |
امام حسین کی شہادت اوراس کے بعد کے واقعات کی روایات کاحرام ہونا جو بیان کیاگیا وہ اس کے خلاف نہیں جو کچھ میں نے اس کتاب میں ذکر کیاکیونکہ یہ سچابیان جو صحابہ کرام کی جلالت شان اور ہرنقص وکمزوری سے ان کی برأت پرمشتمل ہے اس پراعتقاد رکھناواجب ہے بخلاف اس کے جوجاہل واعظین بیان کرتے ہیں،وہ جھوٹی،بناوٹی اور خودساختہ خبریں لوگوں کے سامنے پیش کرتے ہیں اور ان کامحمل نہیں بیان کرتے حالانکہ حق پر عقیدہ رکھناضروری ہے الخ(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع