30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
لہٰذا اس نیت سے یہ بھی ناجائز،مسلمان کوچاہئے عشرہ مبارك میں تین رنگوں سے بچے:سیاہ،سبز،سرخ،سیاہ،سبز کی وجہیں تومعلوم ہوگئیں اور سرخ آج کل ناصبی خبیث خوشی کی نیت سے پہنتے ہیں،سیاہ میں اُودا،نیلا،کاسنی۔سبز میں کاہی،دھانی، پستیئ۔سرخ میں گلابی،عنابی،نارنجی سب داخل ہیں۔غرض جس پر ان میں کوئی رنگ صادق آئے اگر سوگ یاخوشی کی نیت سے پہنے جب توخود ہی حرام ہے ورنہ ان کی مشابہت سے بچنا بہترہے،یوہیں مرثیے کہ رائج ہیں سب حرام وناجائزہیں۔ حدیث میں ہے:
|
نھٰی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم عن المراثی[1]۔ |
رسول اﷲ صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم نے مرثیوں سے منع فرمایا۔ |
اور ماتم کرنا،چھاتی پیٹنا بھی حرام ہے نطقت بتحریمہ احادیث بالغۃ حدالاشتھار(درجہ شہرت تك پہنچی ہوئی حدیثیں اس کے حرام ہونے پر ناطق ہیں۔ت)حسّن حسّن بتشدید کہنا تو جہالت ہی تھا مگرماتم سخت منع ہے۔یوہیں عَلَم،تعزیے،تخت، جریدے، باجے،کھیل تماشے سب بیہودہ وبدعت وممنوع ہیں۔یوہیں تعزیہ،چڑھاوا،امام باڑے کا مکان،اس کی نوبت،روشنی، آرائش سب بشرح صدرہیں،غم والم کانام اور لہوولعب کی یہ دھوم دھام اور اس پر امیدخوشنودی حضرت امام۔اور اس الٹی مت کا کیا ٹھکانا کہ یہ توتعزیہ کی وہ تعظیم کہ گویا معاذاﷲ بعینہٖ یہی نعش مبارك حضورپرنور امام عالی مقام ہے بلکہ اس سے بھی زائد، یہاں تك کہ اسے سجدہ کرنے سے بھی باك نہیں۔اور کہاں یہ حرکت کہ کہاربیلدار وغیرھم کفار اسے اٹھائے پھریں اور اس پر پڑھایہ جائے کہ اسے مومنو! اٹھاؤ جنازہ حسین کا۔استغفراﷲ،پھرگلی کوچوں میں گشت،پھرتوڑتاڑ کردبادینا کتنی شترگربگی ہے،پھر مصنوعی کربلا میں جسے حقیقی کے مثل ٹھہراتے ہیں،کوئی دقیقہ لغویات وممنوعات کااٹھا نہیں رکھتے،رنڈیوں کے جھولے تك ہوتے ہیں بلکہ تختوں پرایك ایك رنڈی جلوہ گرہوتی ہے،کہاں امام عالی مقام کی طرف نسبت اور کہاں یہ سخت شنیع حرکت،کاش اﷲ عزوجل ہمارے بھائیوں کوسمجھ دیتاکہ ہزاروں روپے جویوں نیکی برباد گناہ لازم میں تباہ کرتے انہیں حضرات شہیدان پاك کے نام پرتصدّق کرتے،مساکین کودیتے جاڑے میں ان کے لحاف رضائی گرم کپڑے بناتے وغیرہ وغیرہ افعال حسنہ کرتے تو کتنا بہترہوتا۔اﷲ ہدایت دے آمین! واﷲ تعالٰی اعلم۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع