30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نیك نیت سے،سب ثواب ہے۔
|
کما ثبت فی الاحادیث الصحاح حتی قال صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم مااطعمت نفسك فھو لك صدقۃ[1]۔ |
جیساکہ صحیح حدیثوں سے ثابت ہے،یہاں تك کہ حضورانور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:جوکچھ تو اپنے آپ کوکھلائے وہ بھی تیرے لئے صدقہ ہے۔(ت) |
رہایہ کہ کھچڑا کہاں سے ثابت ہوا،جہاں سے شادی کاپلاؤ دعوت کا زردہ ثابت ہوا۔یہ تخصیصات عرفیہ ہیں نہ شرعیہ،ہاں جو اسے شرعًا ضروری جانے وہ باطل پرہے۔روٹیاں پکاکر تقسیم کرنا بھی خیرہے مگرپھینکنامنع ہے اور ان کاپاؤں کے نیچے آنا یاناپاك جگہ گرناسخت شدیدمواخذہ کاموجب،ایك توروٹی کی بیحرمتی جس کی تعظیم کاحدیث میں حکم فرمایا،دوسرے نیاز کی چیز کی بے توقیری نیاز کی چیز معظم ہوتی ہے کما دلّ علیہ حدیث نفیس فی بھجۃ الاسرار(جیسا کہ اس پرایك عمدہ حدیث دلالت کرتی ہے جو بہجۃ الاسرار میں مذکورہے۔ت)بے ادب وہابیوں کاکہنا کہ اس میں توصدقہ کے سبب سے اورخباثت آگئی،ان کی قلبی خباثت ہے کہ محبوبان خدا کے نام سے انہیں عداوت ہے،بہشتی بننااگربدعات سے خالی ہو اوربدعات سے خالی ہو اور محض نام ونقل نہ ہو بلکہ کام اور فعل ہو یعنی پانی بھربھرکر مسلمانوں کوپلائیں وضوکرائیں توضرور اچھاکام اور باعث اجرہے اور اس کا ثواب بھی نذرشہدائے کرام ہوسکتاہے اور پیك بننانری نقالی اوربیہودہ بے معنی ہے اور گھنٹے لٹکانا حدیث میں منع فرمایا،یوہیں فقیربن کر بلاضرورت ومجبوری بھیك مانگنا حرام،کما نطقت بہ احادیث مستفیضۃ(جیسا کہ بہت سی مشہورومعروف حدیثیں اس معنی پرناطق ہیں۔ت)اور ایسوں کودینا بھی حرام لانہ اعانۃ علی المعصیۃ اس لیے کہ یہ گناہ کے کام پر دوسرے کی امداد کرنا ہے جیسا کہ درمختارمیں مذکورہے۔ت)اور وہ منت ماننی کہ دس برس تك ایساکریں گے سب مہمل وممنوع ہے۔
|
قال صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لانذر فی معصیۃ[2]۔ |
حضوراکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا گناہ کے کام میں کوئی نذر(منت)نہیں۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع