30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مثنوی شریف میں حضرت مجنوں رحمہ اﷲ تعالٰی کی حکایت تحریرفرمائی کہ کسی نے ان کودیکھا کمال محبت کے طورپر ایك کتے کے بوسے لے رہے ہیں،اعتراض کیا کہ کتانجس ہے چنیں ہے چناں ہے۔فرمایانہیں جانتا ؎
کاین طلسم بستہ مولٰی ست ایں پاسبان کوچہ لیلٰی ست ایں[1]
(جیسے یہ اﷲ کی بنائی ہوئی تصویرہے،یہ(کتا)لیلٰی کی گلی کاچوکیدارہے۔ت)
یہ کتا لیلٰی کی گلی کا ہے محبان صادق کاجب دنیا کے محبوبوں کے ساتھ یہ حال ہے جن میں ایك حسن فانی کا کمال سہی ہزاروں عیب ونقص بھی ہوتے ہیں،توکیاکہنا ہے ہمارے محبوب صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کا جنہیں تمام اوصاف حمیدہ میں اعلٰی کمال،اور جن کا ہرکمال ابدی اور لازوال اور جو ہرعیب ونقص سے منزہ وبے مثال،ان کا ہرعلاقہ والاسنی کے سرکاتاج ہے،صحابہ ہوں خواہ ازواج خواہ اہلبیت رضوان اﷲ تعالٰی علیہم اجمعین۔پھریہ کہنا ہے ان کا جو حضور کے جگرپارے اور عرش کی آنکھ کے تارے ہیں،
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
|
حسین منّی وانا من حسین،احب اﷲ من احب حسینا،حسین سبط من الاسباط[2]۔ |
حسین میرااور میں حسین کا،اﷲ دوست رکھے اسے جو حسین کودوست رکھے،حسین ایك نسل نبوت کی اصل ہے۔ |
یہ حدیث کس قدرمحبت کے رنگ میں ڈوبی ہوئی ہے،ایك بار نام لے کر تین بارضمیر کافی تھی مگرنہیں ہربارلذت محبت کے لئے نام ہی کااعادہ فرمایا،کماقالوا فی قول القائل ؎
تاﷲ یاظبیات القاع قلن لنا الیلای منکن ام لیلٰی من البشر
(خدا کی قسم اے ہموارزمین کے ہرنوں! ہمیں یہ بتادو کیالیلٰی تم میں سے ہے یاانسانوں میں سے ہے۔ت)
کون ساسنی ہوگا جسے واقعہ ہائلہ کربلاکاغم نہیں یا اس کی یاد سے اس کادل محزون اور آنکھ پرنم نہیں،ہاں مصائب میں ہم کو صبر کاحکم فرمایا ہے،جزع فزع کو شریعت منع فرماتی ہے،اور جسے واقعی دل میں غم نہ ہو اسے جھوٹا اظہارغم ریاء ہے اور قصدًا غم آوری وغم پروری خلاف رضاہے جسے اس کاغم نہ ہو اسے بیغم نہ رہناچاہئے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع