30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مسئلہ ۱۷۲: ۱۲شعبان ۱۳۱۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اس حدیث کاترجمہ کیاہے اور اس سے میت پر نوحہ کرنے کاجواز بعض غیرمقلدنکالتے ہیں،یہ صحیح ہے یانہیں؟
عن انس قال لما ثقل النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم جعل یتغشّاہ فقالت فاطمۃ واکرب اباہ فقال لھا لیس علٰی ابیك کرب بعد الیوم فلما مات قالت یاابتاہ اجاب ربادعاہ یاابتاہ من جنّۃ الفردوس ماواہ یاابتاہ الٰی جبرئیل ننعاہ فلما دفن قالت فاطمۃ یاانس اطابت انفسکم ان تحثوا علٰی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم التراب۔رواہ البخاری[1]۔ بیّنواتوجروا۔(ترجمہ جواب میں موجود ہے)
الجواب:
انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت ہے جب نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کومرض سے گرانی ہوئی،بے چینی نے غلبہ کیا، حضرت بتول زہرانے کہاہائے میرے باپ کی بے چینی،سیدعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا آج کے بعد تیرے باپ پر کبھی کسی قسم کی بے چینی نہیں،جب حضوراقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے انتقال فرمایا حضرت بتول زہرا نے کہا اے باپ میرے اﷲ کے بلانے پرتشریف لے گئے،اے باپ میرے وہ کہ فردوس کے باغ میں جن کاٹھکانا،اے باپ میرے ہم ان کے انتقال کی مصیبت جبریل سے بیان کرتے ہیں جب سیدعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کودفن کرچکے حضرت بتول زہرا نے فرمایا اے انس! تمہارے دلوں نے کیونکرگواراکیا کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے جسم اطہر کو خاك میں پنہاں کرو۔یہ حدیث بخاری نے روایت کی۔
حضرت بتول زہرانے یہ کلمات نہ صحیحہ وفریاد کے ساتھ کہے نہ ان میں کوئی غلطی یابے تحقیق وصف بیان فرمایانہ کوئی کلمہ شکایت رب العزۃ وناراضی قضائے الٰہی پردال تھا،لہٰذا اس میں کوئی وجہ ممانعت نہیں۔زرقانی میں ہے:
|
فقال لھا لاکرب علی ابیك بعدالیوم وھذا یدل علٰی انھا لم ترفع |
حضوراقدس صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم نے اپنی بیٹی سے فرمایا آج کے بعد تیرے والد گرامی کو گھبراہٹ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع