30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فی المرقاۃ[1] عن السید الشاہ میرك المحدّث عن الامام شمس الدین محمد بن محمد بن محمد الجزری انہ قال فی تصحیح المصابیح عندی واﷲ اعلم لکن المراد بالعذاب الخ قلت وقد تخالج صدری قبل ان اطلع علیہ حتی رأیتہ فیھما وﷲ الحمد،واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔ |
مرقات شرح مشکوٰۃ میں سیدمیرك شاہ محدث بخاری کے حوالہ سے اسے نقل فرمایا اس نے امام شمس الدین محمد بن محمد بن محمد جزری سے نقل کیا انہوں نے تصحیح المصابیح میں ذکر فرمایا اﷲ تعالٰی سب کچھ بہترجانتاہے مگرمیرے نزدیك حدیث مذکور میں عذاب سے دردوکرب مراد ہے الخ میں کہتا ہوں اس پرمطلع ہونے سے پہلے میرے دل میں بھی یہی بات کھٹکتی تھی یہاں تك کہ میں نے ان دونوں بزرگوں کے کلام میں اسے دیکھ لیا۔اور اﷲ تعالٰی ہی کے لئے تمام خوبیاں،محاسن،محامد ہیں۔او ر اﷲ تعالٰی پاك اوربرتربڑا عالم ہے۔(ت) |
(۳)میت پر چلا کررونا جزع فزع کرنا حرام سخت حرام ہے،رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
|
اثنتان فی الناس ھما بھم کفرفی النسب والنیاحۃ۔ رواہ مسلم[2] عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ و رواہ ابن حبان والحاکم وزادا شق الجیب۔ |
لوگوں میں دو یا تین کفرہیں کسی کے نسب پرطعنہ اور میت پرنوحہ۔(امام مسلم نے اس کو حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے حوالے سے روایت کیا،ابن حبان اور حاکم نے بھی اس کو روایت کیاہے مگرحاکم نے یہ اضافہ"اورگریبان پھاڑنا"۔(ت) |
اورفرماتے ہیں صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم:
|
صوتان ملعونان فی الدنیا والاٰخرۃ مزمار عند نعمۃ ورنّۃ عندالمصیبۃ،رواہ البزار[3] عن انس |
دوآوازوں پردنیاوآخرت میں لعنت ہے،نعمت کے وقت باجا اور مصیبت کے وقت چلانا(محدث بزار نے اس کو صحیح سند کے ساتھ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع