30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
وقال اﷲ تعالٰی " اَفَرَءَیۡتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰـہَہٗ ہَوٰىہُ"[1]۔ |
اﷲ تعالٰی نے ارشاد فرمایا:(اے محبوب!)کیا آپ نے دیکھا جس نے اپنی خواہش کواپنامعبود بنارکھاہے۔(ت) |
اور بیشك بے حصول معرفت الٰہی اطاعت ہوائے نفس سے باہرآناسخت دشوار،یہ بندگان خدا نہ صرف عبادت بلکہ طلب وارادت بلکہ خود اصل ہستی ووجود میں اپنے رب جل مجدہ کی توحید کرتے ہیں لاالٰہ الا اﷲ(اﷲ تعالٰی کے سواکوئی سچامعبود نہیں۔ت)کے معنی عوام کے نزدیك لامعبود الااﷲ(اﷲ تعالٰی کے سوا کوئی ایسانہیں جس کی عبادت کی جائے۔ت)،خواص کے نزدیك لامقصود الااﷲ(اﷲ تعالٰی کے سوا مقصود ومطلوب نہیں۔ت)،اہل ہدایت کے نزدیك لامشھود الااﷲ(اﷲ تعالٰی کے کے سواکوئی ایسانہیں جس کی وحدانیت کی گواہی دی جائے اور جس کی بارگاہ میں مخلوق حاضر ہونے والی ہو۔ت)ان اخص الخواص ارباب نہایت کے نزدیك لاموجود الااﷲ(اﷲ تعالٰی کے سواحقیقتًا کوئی موجود نہیں۔ت)تواہل توحید کاسچانام انہیں کوزیبا،ولہٰذا ان کے علم توحید کہتے ہیں:
|
جعلنا اﷲ تعالٰی من خدامھم و تراب ا قدامھم فی الدنیا ولاٰخرۃ وغفرلنا بجاھھم عندہ انہ اھل التقوٰی واھل المغفرۃ اٰمین! |
اﷲ تعالٰی ہمیں ان کے خادموں میں شامل فرمائے اور دنیاوآخرت میں ان کے قدموں کی مٹی بنادے اور ان کے اس مرتبہ عالیہ کے طفیل جو ان کا اس کی بارگاہ میں ہے ہمیں بخش دے بیشك وہی اس لائق ہے کہ اس سے خوف رکھاجائے اور وہی بخش دینے کی اہلیت رکھتاہے۔اے اﷲ! میری دعا قبول ومنظور فرما۔(ت) |
امیدکرتاہوں کہ اس حدیث کی یہ تاویل تاویل امام غزالی قدس سرہ العالی سے احسن واجود،وباﷲ التوفیق۔
پھر ان صورتوں میں بھی جبکہ طرزیہی برتی گئی کہ صاحب حق کو راضی فرمائیں اور معاوضہ دے کر اسی سے بخشوائیں تو وہ کلیہ ہرطرح صادق رہا کہ حق العبد بے معافی عبدمعاف نہیں ہوتا۔غرض معاملہ نازك ہے اور امرشدید اور عمل تباہ امل بعید،اور کرم عمیم اوررحم عظیم،اور ایمان
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع