30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
شرح کنزالدقائق۔وعلامہ حسن شرنبلالی درمراقی الفلاح شرح متن خودش نورالایضاح ذکرکردش وعلامہ سیداحمد طحطاوی درحاشیہ مراقی رحمۃ اﷲ علیہم اجمعین سبحٰن اﷲ چوں امامت فاسق بفسق واحدا رانوبت باینجا رسیدست ایں کسے کہ وجوہ عدیدہ ازفسق جمع کردہ کہ ازانہا بعضے روئے بسوئے کفر آوردہ والعیاذباﷲ ہیچ محل آں باشد کہ امام کردن او روا دارند یادرحرمت اقتدایش نزاعی آرند گیرم کہ نماز پس فاسق وجہ حلت دارد اما کسیکہ درنفس اسلامش خلاف راگنجایشے باشد کیست کہ امامت او را حلال انگارد[1] الاتری ان فی تقدیمہ تعظیمہ وھو حرام عند الشرع بالقطع معہذا علماء ما از امام ابویوسف رضی اﷲ تعالٰی عنہ روایت کردہ اند کہ امامت متکلمان جائز نیست اگرچہ باعتقاد صحیح باشند کما نقلہ الامام الاجل الھندوانی والزاھدی صاحب القنیۃ والمجتبٰی والامام البخاری صاحب الخلاصۃ والامام العلامۃ المحقق حیث اطلق فی الفتح [2]وہمیں معنی فتواے امام اجل شمس الائمہ حلوائی رحمۃ اﷲ |
میں امام زیلعی کے ارشاد کابھی یہی مطلب ہے۔علامہ حسن شرنبلالی نورالایضاح کی شرح مراقی الفلاح میں اور علامہ سید احمد طحطاوی نے حاشیہ مراقی میں بھی اسی طرح فرمایا سبحان اﷲ جب اس شخص کی امامت درست نہیں جس میں ایك فسق پایاجاتا ہو تو اس شخص کو امام بنانا کس طرح درست ہوگا جس میں کئی وجہ سے فسق پایاجاتا ہے اور بعض وجہیں کفر تك پہنچاتی ہیں(نعوذباﷲ من ذلک)کیاکچھ گنجائش ہے کہ علماء ایسے شخص کے امام بنانے کوجائز رکھیں یا اس کی اقتداء کے ناجائز ہونے میں کچھ اختلاف کریں یہ درست ہے کہ فاسق کے پیچھے نماز ہونے کی ایك صورت ہے لیکن جس شخص کے اسلام ہی میں اختلاف پایا جاتا ہو اس کی امامت کو کون حلال گمان کرے گا کیا تجھے خبرنہیں کہ اسے امام بنانے میں اس کی تعظی ہے اور وہ شرعًا قطعی طور پر حرام ہے اس کے باوجود ہمارے علماء امام ابویوسف رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ متکلمین کی امامت جائزنہیں اگرچہ ان کا عقیدہ صحیح ہو جیسے کہ امام اجل ہندوانی زاہدی صاحب قنیہ و مجتبٰی امام بخاری صاحب خلاصہ او ر ابن ہمام صاحب فتح القدیر نے نقل کیا،امام ا لائمہ شمس الائمہ حلوائی کے فتوٰی میں |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع