30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
پائے تضمن درمیان ست نزاع لزوم والتزام عیان ست کما بیناہ فی مقام الحدید وﷲ الھادی الی المسلك السدید۔ ایں بست وجہ است،نجیح ووجیہ مفید فقیہ ومبید سفیہ کہ برنہج ارتجال بحال استعجال سپردخاتمہ نمودہ شد ومانا کہ اگرغوری رود وجوہ دیگر منجلی شود اما ہمیں قدرپسند ست وتطویل ممل نا پسند حالا مسلماناں نگہ کنند کہ شرع مطہر امامت فاسق رانہ پسندیدہ تا آنکہ بسیارے ازعلماء امامتش رامکروہ تحریمی قریب حرام وآناں راکہ بتقدیمش بردارند مبتلائے اثام گفتہ اند علامہ ابراہیم حلبی رحمہ اﷲ تعالٰی درشرح کبیر منیہ عبارت فتاوٰی الحجۃ نقل کردہ میفرماید فیہ اشارۃ الی انھم لو قدموا فاسقا یاثمون بناء علی ان کراھۃ تقدیمہ کراھۃ تحریم لعدم اعتنائہ باموردینہ وتساھلہ فی الاتیان بلوازمہ فلایبعد منہ الاخلال ببعض شروط الصلٰوۃ وفعل ماینافیھا بل ھو الـغالب بالنظر الی فسقہ ولذا لم تجز الصلٰوۃ خلفہ اصلًا عند مالك وروایۃ عن احمد[1]،وہمیں است ارشاد امام زیلعی درتبیین الحقائق
|
یہ بات ضمنًا آگئی ہے اس لئے یہی کہاجائے گا کہ علم دین کی توہین لازم آئی ہے اس شخص نے اس کا التزام نہیں کیا(اس لئے کفرکاقول نہیں کیاجائے گا)جیسے کہ ہم نے"مقامع الحدید"میں بیان کیا۔ یہ بیس۲۰ عمدہ او ربہترین وجہیں فقیہ کے لئے مفید اور بیوقوف کے لئے تباہ کن قلم برداشتہ فی البدیہ لکھ دی گئی ہیں،اگر مزید غورکیاجائے تو اور وجوہ بھی ظاہرہوسکتی ہیں تاہم انہیں پراکتفاء کیاجاتاہے زیادہ کی ضرورت نہیں۔اب مسلمانوں کو غور کرنا چاہئے کہ شریعت مقدسہ نے فاسق کی امامت کو پسند نہیں کیا حتی کہ بہت سے علماء نے اسے مکروہ تحریمی اور حرام کے قریب فرمایا ہے اور ایسے شخص کوامام بنانے والوں کو گناہ عظیم کامبتلا قراردیاہے،علامہ ابراہیم حلبی کبیر شرح منیہ میں فتاوٰی حجہ سے نقل کرکے فرماتے ہیں:اس میں اشارہ ہے کہ فاسق کو امام بنانے والے گنہ گار ہوں گے،کیونکہ اسے امام بنانا مکروہ تحریمی ہے اس لئے کہ وہ اموردین کاچنداں خیال نہیں کرتا اور شریعت کے لازمی امورکے اداکرنے میں سستی سے کام لیتا ہے کچھ بعیدنہیں کہ وہ نماز کی بعض شرطوں کوبھی ترك کردے اور نماز کے مخالف کوئی کام کربیٹھے بلکہ اس کے فسق کے پیش نظر غالب یہی گمان ہے اسی لئے امام مالك کے نزدیك اس کے پیچھے نمازبالکل جائزنہیں۔تبیین الحقائق شرح کنزالدقائق |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع