30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
وسیلہ تفضیل وباعث تقدیم درمناجات رب جلیل دانست پیداست کہ کدام تحسین بالاتر ازیں باشد وایں معنی العیاذباﷲ پہلو بکفرزند چنانکہ علماء درفروع کثیرہ تنصیص کردہ اند وامام عبدالرشید بخاری تلمیذ امام اجل ظہیری وامام فقیہ النفس قاضی خان رحمہم اﷲ تعالٰی درخلاصہ فرماید من قال احسنت لماھو قبیح شرعا اوجودت کفر [1] یارب مگر متفلسفان بر خویشتن نمی بخشایند کہ ہرفعل محرم بس ناکردہ زبان بتکبرو تفاخر مے کشایند "کَلَّا بَلْ ٜ رَانَ عَلٰی قُلُوۡبِہِمۡ مَّا کَانُوۡا یَکْسِبُوۡنَ ﴿۱۴﴾ "[2]،ونسأل اﷲ العافیۃ۔
بستم آنکہ فضل تفلسف رابرفضل تفقہ ترجیح دادن کہ ادعائے اولویت بامامت رامنشاء ومنزع ہمون تواند بودمتضمن تحقیر علم دین ست کما لایخفی وتحقیربروجہ صریح کفر قطعی ست اینجا چوں |
توجہ دیں کہ مذکورہ بالا شخص،فلسفے کادعویدار اس چیز پر فخر کرتاہے کہ بناء بریں اپنے آپ کو فضیلت والا اورامامت کے زیادہ لائق سمجھتاہے جسے علماء نے حرام کہاہے واضح ہے کہ اس سے بڑھ کر اس حرام فعل کی تعریف وتحسین اورکیا ہو سکتی ہے نعوذباﷲ من ذٰلك اس میں تو ایك پہلو کفر کابھی نکلتا ہے چنانچہ علماء نے بہت سے مسائل میں تصریح کی ہے، امام اجل ظہیری اور امام فقیہ النفس قاضیخاں کے شاگرد امام عبدالرشید بخاری رحمہم اﷲ تعالٰی فرماتے ہیں:خلاصہ میں ہے کہ من قال احسنت لما ھو قبیح شرعا اجودت کفر (جس شخص نے شرعی قبیح کے مرتکب کوکہا کہ تونے اچھاکیا تو وہ کافر ہوگیا)بارالٰہا! شاید یہ فلسفے کے دعویدار اپنے اوپر رحم نہیں کرتے کہ حرام فعل کی بناء پرفخر اور تکبرکرتے ہیں،ہاں ان کے دلوں پر ان کے اعمال کی سیاہی چھاچکی ہے۔ ۲۰بستم فلسفے کی فضیلت کو ترجیح دینا(فقہ کی فضیلت پر)کیونکہ امامت کے زیادہ لائق ہونے کے دعوٰی کی یہی وجہ ہوسکتی ہے اس میں ضمنًا علم دین کی توہین ہے جیسے کہ ظاہر ہے اور علم دین کی صراحۃً توہین کفرہے یہاں چونکہ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع