30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
بھا بیضاء ونقیۃ من ایں ملت وشریعت راسپید وروشن وصاف وپاکیزہ آوردہ ام کہ نہ ہیچ شبہہ رادر ودخلی نہ باوے سوئے چیزے دگرحاجتی ولوکان موسٰی حیا ماوسعہ الا اتباعی[1]۔ وخود یہود واحادیث آنہا چہ لائق التفات باشد اگر موسٰی ہم بدنیا بودے اورانیز جزپیری من گنجائش نداشتی صلی اﷲ تعالٰی علیك وسلم ومعلوم ست کہ احادیثکہ ہمچو عمررا خوش آید رضی اﷲ تعالٰی عنہ زنہار مخالف ملت ومنافی شریعت نباشد با اینہمہ نہی نمودند وامت رابراستغناء بشرع مطہر ازہمہ اغیارش دلالت فرمودند فکیف کہ دامن کفار یونان گیرند وبحر صافی را پس پشت انداختہ درتیہ ضلالت بتلخی میرند لایاتی ذٰلك الاممن سفہ نفسہ ۔ بالجملہ ضرور فلسفہ وضلال متفلسفہ از شمس ازھر وازامس اظہر پس در تحریمش ارتیاب نکند مگرمریض القلب ضعیف الایمان والعیاذ باﷲ وعلیہ التکلان بیاتا عنان بمطلب گردانیم متفلسف مذکور ایں حرام علماء راذریعہ تفاخر و |
بھا بیضاء نقیۃ میں تمہارے پاس یہ واضح اور پاکیزہ شریعت لایاہوں کہ اس میں نہ تو شك وشبہہ کی گنجائش ہے اور نہ کسی او رچیز کی ضرورت ولوکان موسٰی حیا ما وسعہ الا اتباعی اگرموسٰی علیہ السلام دنیامیں ہوتے تو انہیں بھی میری پیروی کے سواچارہ نہ ہوتا۔ظاہرہے کہ جو باتیں عمر فاروق رضی اﷲ تعالٰی عنہ ایسی شخصیت کوپسندآتی ہوں وہ ہرگز شریعت کے مخالف نہ ہوں گی،اس کے باوجود حضور نے منع فرمایا اور بتادیا کہ شریعت مطہرہ کے ہوتے ہوئے کسی اور چیز کی ضرور نہیں،یہ کس طرح جائزہوگا کہ صاف وشفاف دریا (شریعت مقدسہ)کو پس پشت ڈال کر یونان کے کافروں کا دامن تھاما جائے اور گمراہی کے جنگل میں مصیبت کی موت مول لی جائے یہ وہی شخص کرسکتاہے جس نے اپنے آپ کو حقیر و ذلیل بنادیاہو۔الحاصل یہ فلسفے کانقصان اور فلسفے کے دعویداروں کی گمراہی گزشتہ دن اور سورج سے زیادہ ظاہرہے لہٰذا اس کی حرمت میں صرف وہی شخص شك کرے گا جس کادل بیمار اور ایمان کمزور ہو،نعوذباﷲ من ذالک۔آئیے تاکہ اصل مطلب کی طرف |
[1] مشکوٰۃ المصابیح بحوالہ احمدوبیہقی فی الشعب باب الاعتصام بالکتاب والسنۃ مطبع مجتبائی دہلی ص۳۰،مسنداحمد بن حنبل عن جابر رضی اﷲ عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۳ /۳۸۷،شرح السنۃ للبغوی باب حدیث اھل الکتاب المکتب الاسلامی بیروت ۱۰ /۲۷۰
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع