30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
بمسلماناں نرسد ومرد متفلسف کہ دریں جہالات مسمی بعلم توغل دارد وعمر می گزارد اگردعوٰی کند کہ من بدل عقائد آنہا راجائے ندادہ ام خود حال اوبہر تکذیب اوبسند ست کہ اگر نہ پسند ست چراپائے بندست ہیچ دیدہ انساں ہرچیزے راکہ دشمن دارد باختیار خود باوے عمرگزارد وشبہا باوے سحرکند ومدتہا چنگ بدامنش زند وبحصولش غلغلہ تفاخر افگند وکُلُّہُ گو شہا بر آسمان شکند حاش ﷲ ایں ہمہ علامات رضاوایثارست ورنہ با دشمن ساعتی بسربردن شوار ست یاغراب البین لیت بینی و بینك بعد المشرقین ایں ست تقریرکلامش برحسب مرامش رحمہ اﷲ تعالٰی وماذکرہ فی الفلسفۃ صحیح و من ثم قال الاوزاعی رحمہ اﷲ تعالٰی تحریمھا ھو الصحیح الصواب واما ما ذکرہ فی المنطق الفلاسفۃ ھو الذی یحرم الاشتغال بہ ویدل لذلك قولہ کف شرھم وقولہ ومعتقد لعقائدھم [1]ھ ملتقطا وفیہ طول کثیر۔ فقیرمیگویم واﷲ سبحٰنہ یغفرلی از اول دلیل برتحریم وتفلسف وتقبیح حالش حدیثی ست کہ امام عبدالرحمان دارمی درسنن خودش ازسیّدنا |
ایك چیز کو ناپسند رکھنا جوپھر اپنی مرضی سے اپنی تمام عمر اس میں صرف کردے،راتیں اس کے پیچھے گزاردے اور مدتوں اس کے ساتھ وابستہ رہے اور اس کے حاصل کرنے پرفخر کرے ہرگز نہیں،یہ سب پسندیدگی کی علامتیں ہیں ورنہ دشمن کے ساتھ ایك لحظہ گزارنا بھی مشکل ہوتاہے جدائی کے کوسے(دین سے دورکرنے والے)کاش میرے اور تیرے درمیان مشرق اورمغرب کافاصلہ ہوتا،علامہ نے فلسفہ کے متعلق جوفرمایا وہ صحیح ہے اسی لیے امام اوزاعی نے فرمایا فلسفے کاحرام ہونادرست ہے۔رہامنطق کامسئلہ توفلاسفہ کامنطق پڑھنا حرام،علامہ کاکلام خود اس طرف اشارہ کررہی ہے (کیونکہ ان کے منطق میں ان کے مذہب کے مطابق مثالیں درج ہوتی تھیں کچھ دورنہیں تھا کہ ان کے باربار تکرار سے ذہن میں بیٹھ جائیں ۱۲)
فقیرکہتاہے کہ فلسفے کے حرام ہونے اور ا س کے برائی کی دلیل وہ حدیث ہے جو امام ابوعبدالرحمان دارمی نے سنن میں سیدنا جابر |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع