30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
باﷲ التوفیق۔ ھفدھم آنکہ چوں سیدموصوف حسب تصریح سائل ہم بعلم وہم بتقوٰی وہم بسن دہم بنسب اجل وافضل ست مستحق بکرامت امامت وتعظیم تقدیم ہموں است کہ ایں ہرچہار از وجوہ احقیت ست کما صرح بہ فی تنویر الابصار وغیرہ عامۃ الاسفار پس منازعتش باوے صراحۃ برخلاف حکم شرع ست " وَ مَنۡ یَّتَعَدَّ حُدُوۡدَ اللہِ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَہٗ ؕ"[1]۔ ھژدھم آنکہ ایں کس میخواہد کہ علم خود را ذریعہ تحصیل دنیا کند ودرحدیث مصطفی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم آمدہ است من اکل بالعلم طمس اﷲ علی وجھہ و ردّہ علی عقبیہ وکانت النار اولٰی بہ یعنی ہرکہ علم راذریعہ جلب مال نماید حق عزوجل روئے اورامسخ فرماید واُو را برہردو پاشنہ اش، بازگرداند وآتش دوزخ باوسزاوارتر باشد اخرجہ الشیرازی [2]فی الالقاب عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔ودر حدیث دیگر ست کہ فرمود صلی اﷲ |
پہنچی ہوئی ہیں وباﷲ التوفیق۔ ھفدھم جب سیدصاحب موصوف سائل کے کہنے کے مطابق علم وتقویٰ عمراورنسب میں اعلٰی اورافضل ہیں تو وہی امامت کی عزت وتعظیم کے لائق ہے اور یہ چاروں باتیں امامت کے زیادہ حقدار ہونے کاسبب ہیں جیسے کہ تنویرالابصار وغیرہ فقہ کی بڑی بڑی کتابوں میں تصریح ہے پس ایسے شخص کے ساتھ جھگڑا شریعت کے حکم کے خلاف ہے اور جو اﷲ تعالٰی کی قائم کی ہوئی حدوں سے پھاند گیا اس نے اپنے اوپرظلم کیا۔ ۱۸ھژدھم یہ شخص چاہتاہے کہ اپنے علم کو دنیا حاصل کرنے کا ذریعہ بنائے۔نبی اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی حدیث شریف میں ہے:من اکل بالعلم طمس اﷲ وجہہ وردّہ علی عقبیہ وکانت النار اولٰی بہ جو شخص علم کودنیاکمانے کاذریعہ بناتا ہے اﷲ تعالٰی اس کے چہرے کو بگاڑ دے گا اور اسے اس کی ایڑیوں پر واپس لوٹادے گا اور دوزخ کی آگ اس کے زیادہ لائق ہے(شیرازی نے القاب میں ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کی)۔دوسری حدیث میں ہے نبی کریم صلی اﷲ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع