30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
للعلم السکینۃ والوقار وتواضعوا لمن تعلمون منہ [1]علم آموزید وبہر علم سکون ومہابت آموز وپیش استاذ کہ شمارا تعلیم کردہ است تواضع وفروتنی ورزید بخردان سعادتمند اگربر اوستاذ چربندہم ازبرکت وفیض اوستاذ دانند وبیشتر ازپیشتر روئے برخاك پالیش مالند، ع کاخرای بادصبا ایں ہمہ آوردہ تست وبیخرداں شریر دادند چوں سرپنجہ توانائی یابند برپدر پیر بسرہنگی شتابند وسراز خط فرمانش تابند زودبینی کہ چوں بہ پیری رسند کیفر کفران ازدست خود چشند کما تدین تدان ولعذاب الاٰخرۃ اشد وابقی۔ ھشتم آنکہ علماء فرمودہ اند ازحق اوستاذ برشاگرد آنست کہ برفراش او نہ نشیند اگرچہ اوستاذ حاضرنہ باشد،فی ردالمحتار حاشیۃ الدرالمختار عن منح الغفار عن الفتاوی البزازیۃ عن الامام الزندویستی قال حق العالم علی الجاھل وحق الاستاذ علی التلمیذ واحد علی السواء وھو ان لایفتح الکلام قبلہ ولایجلس مکانہ وان غاب |
للعلم السکینۃ والوقار وتواضعوا لمن تعلمون منہ علم سیکھو اور علم کے لئے ادب واحترام سیکھو،جس استاذ نے تجھے علم سکھایا ہے اس کے سامنے عاجزی اور انکساری اختیارکرو عقلمند اور سعادت مند اگر استاذ سے بڑے بھی جائیں تو اسے استاذ کا فیض اور اس کی برکت سمجھتے ہیں اور پہلے سے بھی زیادہ استاذ کے پاؤں کی مٹّی پرسرملتے ہیں ع آخر اے بادصبا! سب تیراہی احسان ہے بے عقل اور شریر اور ناسمجھ جب طاقت وتوانائی حاصل کرلیتے ہیں تو بوڑھے باپ پر ہی زورآزمائی کرتے ہیں اور اس کے حکم کی خلاف ورزی اختیار کرتے ہیں جلد نظرآجائے گا کہ جب خود بوڑھے ہوں گے تو اپنے کئے ہوئے کی جز ااپنے ہاتھ سے چکھیں گے،جیسا کرو گے ویسابھروگے،اورآخرت کاعذاب سخت اور ہمیشہ رہنے والا ہے۔ ۸ھشتم علماء فرماتے ہیں کہ استاذ کا شاگرد پر یہ بھی حق ہے کہ استاذ کے بستر پر نہ بیٹھے اگرچہ استاذ موجود نہ ہو،درمختار کے حاشیہ ردالمحتار میں منح الغفار سے انہوں نے فتاوٰی بزازیہ سے انہوں نے امام زندویستی سے نقل کیا کہ عالم کاحق جاہل پر اور استاذ کا حق شاگرد پربرابر ہے کہ اس سے پہلے بات نہ کرے اس کی جگہ نہ بیٹھے اگر چہ وہ موجود نہ ہو اور اس کی |
[1] المعجم الاوسط حدیث ۶۱۸۰ مکتبۃ المعارف ریاض ۷ /۱۰۵،الکامل لابن عدی ترجمہ عباد بن کثیر الثقفی دارالفکر بیروت ۴ /۱۶۴۲
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع