30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
الاوکنت لہ عبدا ماحیی[1] یعنی ازہرکہ یك حدیث نوشتہ ام مدۃ العمر اورا بندہ ام۔وایں احادیث وروایات آں زعم باطل رانیز ازبیخ برمی کند کہ تعلیم ابتدائی راقد رے ندانست وخود معلوم ست کہ اباق ازمولی کبیرہ ایست عظمی تاآنکہ سید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم آبق راکافر گفتہ است کما رواہ مسلم[2] عن جریر بن عبداﷲ البجلی رضی اﷲ تعالٰی عنہ و نا پذیراشدن نمازش دراحادیث کثیرہ واردست کحدیث مسلم[3] عنہ وحدیث الترمذی عن ابی امامۃ و حدیث الطبرانی وابن خزیمۃ وابن حبان عن جابر و حدیث الحاکم والمعجمین الاوسط والصغیر عن ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنھم کلھم عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم والسردیطول۔ ھفتم خود رابراوستاذ فضل می نہد وایں خلاف مامورست اخرج الطبرانی فی الاوسط وابن عدی فی الکامل عن ابی ھریرۃ عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم تعلموا العلم وتعلموا |
الاوکنت لہ عبدا ماحیی"جس سے میں نے ایك حدیث لکھی میں اس کاعمربھر غلام رہاہوں۔یہ حدیثیں اور روایتیں اس باطل خیال کو جڑ سے اکھیڑ دیتی ہیں کہ ابتدائی تعلیم کی کیاقدر ہے اور واضح ہے کہ آقا سے بھاگ جانا بہت بڑاگناہ ہے حتی کہ سیدعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے بھاگنے والے غلام کو کافر فرمایا ہے جیسے کہ امام مسلم نے جریر بن عبداﷲ بجلی رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیابھاگنے والے غلام کی نمازوں کا نامقبول ہونا بہت سی حدیثوں میں وارد ہے جیسے کہ امام مسلم نے جریر بن عبداﷲ سے امام ترمذی نے ابوامامہ سے طبرانی،ابن خزیمہ اور ابن حبان نے حضرت جابر سے حاکم معجم اوسط اور معجم صغیر نے ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہم سے نبی اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے روایت کی تمام روایات کے نقل کرنے سے طوالت پیداہوگی۔ ۷ھفتم اپنے آپ کو استاذ سے افضل قرار دیتاہے اور یہ خلاف مامور ہے طبرانی نے اوسط میں اور ابن عدی نے کامل میں ابوہریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کی کہ نبی اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں تعلموا العلم وتعلموا |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع